والد کی خواہش تھی تدفین عبداللہ شاہ غازیؒ مزار کے احاطے میں کی جائے: بیٹا

کراچی: (راٸل نیوز) پاکستان کے معروف کامیڈین عمر شریف کے صاحبزادے جواد عمر نے کہا ہے کہ والد کی خواہش تھی تدفین عبداللہ شاہ غازیؒ مزار کے احاطے میں کی جائے۔

کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سب سے اپیل ہے مغفرت کے لیے دعا کریں، تدفین سے متعلق انتظامات ہو رہے ہیں جیسے ہی کوئی فیصلہ ہو گا نماز جنازہ کا اعلان کرینگے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ والد کی خواہش تھی تدفین عبداللہ شاہ غازیؒ مزار کے احاطے میں کی جائے، ہم نے سندھ حکومت سے درخواست کی ہے، دنیا بھرسے مداحوں کی کال آرہی ہے۔

دوسری طرف عمر شریف کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ جرمنی سے اداکار عمر شریف کی میت پیر کو روانہ کی جائے گی۔ اتوار کی تعطیل کے باعث ضروری کارروائی پیر کو مکمل کی جائے گی ۔جبکہ امکان ہے کہ جرمنی سے میت منگل کو کراچی پہنچے گی۔

خیال رہے کہ عمر شریف کو علاج کی غرض سے 28 ستمبر کو پاکستان سے براستہ جرمنی امریکا منتقل کیا جا رہا تھا تاہم ان کے جرمنی میں عارضی قیام کے دوران ہی ان کی طبعیت مزید بگڑی اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق عمر شریف کا اصل نام محمد عمر تھا اور وہ سرکاری ٹی وی کے مطابق کراچی میں 1955 کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کی عمر چار سال تھی کہ والد کا انتقال ہو گیا اور ان کے خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

وہ کراچی میں جس علاقے میں رہائش پذیر رہے وہاں قریب قوالوں کے بھی گھر تھے۔ بچپن اور لڑکپن میں ان کی دوستی ان قوالوں کے بچوں سے رہی اور جب ہوش سنبھالا تو اپنے محلے کے مختلف کرداروں سمیت مشہور فلمی اداکاروں کی بول چال اور انداز کی نقالی کرنے لگے۔ عمر شریف 14 سال کی عمر میں تھیٹر سے بطور اداکار وابستہ ہوئے۔ ان کے سٹیج اداکار بننے کا قصہ بھی بہت دلچسپ ہے۔

یہی وجہ تھی کہ عمر شریف کی بذلہ سنجی، جملے بازی اور لطیفہ گوئی پورے علاقے میں مشہور ہو گئی تھی۔ سکول کے بعد وہ جب گلی محلے میں نکلتے تو ارد گرد لڑکوں کا ہجوم ہوتا اور وہ انہیں ہنسانے میں مصروف ہو جاتے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق عمر شریف نے نجی ٹی وی چینلز پر بھی شوز کیے اور ایسے ہی ایک شو ’عمر شریف ورسز عمر شریف‘ میں وہ 400 سے زیادہ بہروپوں میں نظر آئے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

عمر شریف پاکستان کے شاید واحد مزاحیہ فنکار ہیں جن کے پرستار دنیا میں موجود ہیں۔ امیتابھ بچن ہو، شاہ رخ خان یا بولی وڈ کے بڑے بڑے نام سب ان کے مداح تھے۔ ایک مرتبہ عمر شریف ممبئی گئے تو اداکارہ فرح اور تبو روزانہ گھر سے کھانے پکا کر اس ہوٹل لاتی رہیں جہاں عمر شریف قیام پذیر تھے۔

فرح نے بتایا تھا کہ جب وہ ڈپریشن کا شکار ہوئیں تو ان کے سسر نے عمر شریف کے مزاحیہ ڈرامے دیتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں دیکھو۔ فرح کے مطابق عمر شریف کے ڈرامے دیکھ کر وہ اتنا ہنستی تھیں کہ ان کا ڈپریشن دور ہو گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں