عمر شریف کا انتقال، قومی کرکٹرز کا افسوس کا اظہار۔

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستانی کرکٹرز نے بھی پاکستان کے معروف کامیڈین کے انتقال پر افسوس کا اظہارکیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ چیئر مین رمیز راجہ نے ٹویٹر پر لکھا کہ عمر شریف کو کھونے کا بہت دکھ ہے، وہ بہترین کامیڈین میں سے ایک تھے، ان کی عقل اور مزاح افسانوی تھا، ہم مایوسیوں سے بھری اس دنیا میں عمر شریف کو اور زیادہ یاد کریں گے۔۔


قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے بھی اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ لوگوں کو ہنسانا دنیا کا مشکل ترین کام ہے لیکن عمر شریف نے یہ کام خوب مہارت سے کیا۔ میں نے ہمیشہ ان کی کامیڈی انجوائے کی۔ ان کے پاس بے پناہ ہنر تھا، وہ بولتے تو کوئی ان کو میچ نہ کر پاتا۔ سب کو ہنسانے والا، سب کو رلا گیا۔ ہم سب ان کے جدا ہونے پر غمگین ہیں۔ اللہ مغفرت کرے ،آمین۔
قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم اور دیگر کھلاڑیوں نے بھی عمر شریف کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ۔
خیال رہے کہ عمر شریف کو علاج کی غرض سے 28 ستمبر کو پاکستان سے براستہ جرمنی امریکا منتقل کیا جا رہا تھا تاہم ان کے جرمنی میں عارضی قیام کے دوران ہی ان کی طبعیت مزید بگڑی اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق عمر شریف کا اصل نام محمد عمر تھا اور وہ سرکاری ٹی وی کے مطابق کراچی میں 1955 کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کی عمر چار سال تھی کہ والد کا انتقال ہو گیا اور ان کے خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

وہ کراچی میں جس علاقے میں رہائش پذیر رہے وہاں قریب قوالوں کے بھی گھر تھے۔ بچپن اور لڑکپن میں ان کی دوستی ان قوالوں کے بچوں سے رہی اور جب ہوش سنبھالا تو اپنے محلے کے مختلف کرداروں سمیت مشہور فلمی اداکاروں کی بول چال اور انداز کی نقالی کرنے لگے۔ عمر شریف 14 سال کی عمر میں تھیٹر سے بطور اداکار وابستہ ہوئے۔ ان کے سٹیج اداکار بننے کا قصہ بھی بہت دلچسپ ہے۔

یہی وجہ تھی کہ عمر شریف کی بذلہ سنجی، جملے بازی اور لطیفہ گوئی پورے علاقے میں مشہور ہو گئی تھی۔ سکول کے بعد وہ جب گلی محلے میں نکلتے تو ارد گرد لڑکوں کا ہجوم ہوتا اور وہ انہیں ہنسانے میں مصروف ہو جاتے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق عمر شریف نے نجی ٹی وی چینلز پر بھی شوز کیے اور ایسے ہی ایک شو ’عمر شریف ورسز عمر شریف‘ میں وہ 400 سے زیادہ بہروپوں میں نظر آئے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

عمر شریف پاکستان کے شاید واحد مزاحیہ فنکار ہیں جن کے پرستار دنیا میں موجود ہیں۔ امیتابھ بچن ہو، شاہ رخ خان یا بولی وڈ کے بڑے بڑے نام سب ان کے مداح تھے۔ ایک مرتبہ عمر شریف ممبئی گئے تو اداکارہ فرح اور تبو روزانہ گھر سے کھانے پکا کر اس ہوٹل لاتی رہیں جہاں عمر شریف قیام پذیر تھے۔
فرح نے بتایا تھا کہ جب وہ ڈپریشن کا شکار ہوئیں تو ان کے سسر نے عمر شریف کے مزاحیہ ڈرامے دیتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں دیکھو۔ فرح کے مطابق عمر شریف کے ڈرامے دیکھ کر وہ اتنا ہنستی تھیں کہ ان کا ڈپریشن دور ہو گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں