how google working for pakistani and indians truth is exposed

دنیا کے انٹرنیٹ کے مسائل کم کرنے والی مشہور کمپنی گوگل خود ایک بڑی مشکل میں پھنس چکی ہے اور اسے سمجھ نہیں آرہی کہ اس مشکل کا کیا حل نکالا جائے۔تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ گوگل جلد ہی اس مشکل سے چھٹکارا پالے گا اور موجودہ مشکل میں بھی وہی چالاکی استعمال کرے گا جو اس نے چین اور بھارت کے سرحدی مسئلے کے دوران کی تھی۔تفصیلات کے مطابق گوگل کے لئے یہ مسئلہ کھڑا ہوچکا ہے کہ وہ کریمیا کے علاقے کوکس ملک کا حصہ دکھائے کہ اس وقت روسی اور یوکرائن کی حکومتیں اس علاقے پر اپنا دعویٰ کررہی ہیں اور دونوں ممالک کی حکومتیں گوگل کے نقشے پر نظر رکھی ہوئے ہیں۔برحال ابھی اس حصے کو یوکرائن کا علاقہ دکھایا گیا ہے جس پر روس کافی ناراض ہے۔لیکن کچھ مبصرین کاخیال ہے کہ گوگل کی انتظامیہ انتہائی چالاکی سے اس مسئلے کاحل نکال لے گی اور وہی قدم اٹھائے گی جو اس نے چین اور بھارت کے درمیان سرحدوں کے تنازعہ کے بارے میں کیا تھا جس میں دونوں ملکوں کادعویٰ تھا کہ اناچل پردیش کا علاقہ ان کاہے۔گوگل نے انتہائی چالاکی کے ساتھ چین میں رہنے والے افراد کو ایسا نقشہ دکھایا جس میں اناچل پردیش کو چین کا حصہ دکھایا گیاہے اور بھارت میں رہنے والے افراد جب اپنے ملک کا نقشہ دیکھتے ہیں تو انہیں اناچل پردیش بھارت کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ایسا ہی طریقہ گوگل نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے شہریوں کے لیے اپنا لیا ہے اور پاکستان میں کام کرنیوالے سرور سے سرچ  کرنے کی صورت میں کشمیر پاکستان کا حصہ دکھائی دیتاہے لیکن اگر کوئی بھارت سے گوگل سرچ استعمال کرے تواسے کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھائی دیتاہے ، گوگل  پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے عوام کو بے وقوف بنا رہاہے  اور تاریخ مسخ ہورہی ہے

how google working for pakistani and indians
truth is exposed

اپنا تبصرہ بھیجیں