ٹوئٹر کے 50 فیصد ملازمین کو نوکری سے نکال دیا گیا

نیویارک دنیا کے امیر ترین آدمی ایلون مسک نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ کی ملکیت حاصل کرنے کے ایک ہفتے بعد 50فیصد ملازمین کو نوکری سے فارغ کر دیا۔ نیوز ویب سائٹ’دی کرنٹ‘ کے مطابق ٹوئٹر کے ملازمین کو نوکری سے نکالنے کا سلسلہ جمعہ کے روز شروع ہوا۔ ملازمین نے بتایا ہے کہ انہیں جمعہ کے روز ای میلز موصول ہونی شروع ہوئیں، جن میں انہیں بتایا گیا تھا کہ ”کمپنی میں آپ کا آج آخری دن ہے۔“
ایلون مسک کی طرف سے اپنے ملازمین کو نکالنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ”ٹوئٹر کی آمدنی میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔ ایکٹیوسٹ گروپ ٹوئٹر پر اشتہارات دینے والوں پر دباﺅ ڈال رہے ہیں، حالانکہ ہم نے ٹوئٹر میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے اور ایکٹیوسٹ گروپوں کو رام کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا ہے۔ وہ لوگ امریکہ میں آزادی اظہار کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

رپورٹ کے مطابق ٹوئٹر کے ملازمین کی کل تعداد 7500ہے۔ چنانچہ ایلون مسک کے اس فیصلے سے 3700سے زائد ملازمین کی نوکری ختم ہو گی۔ نوکری سے نکالے جانے والے بعض ملازمین نے بتایا ہے کہ انہیں برطرفی کے نتیجے میں کم از کم دو ماہ کی تنخواہ ملے گی۔

ایلون مسک کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر کو روزانہ چار ملین ڈالر کا خسارہ ہو رہا تھا جس کی وجہ سے ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ملازمین کو تین ماہ کی تنخواہ دی جائے گی جو کہ مقررہ حد سے زیادہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں