افغان طالبان امن چاہتے ہی نہیں

کابل: (ویب ڈیسک) افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ افغان طالبان امن چاہتے ہی نہیں
غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغان وزرات داخلہ کے مطابق افغان صدر کی رہائش گاہ کے قریب راکٹ حملے کیے گئے ہیں۔ صدر محل کے قریب 3 راکٹ ایک ایسے وقت ہر گرے، جب افغان صدر اشرف غنی دیگر اعلیٰ اہلکاروں کے ہمراہ عید نماز ادا کر رہے تھے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق راکٹ گرنے کی گرجدار آواز کے باوجود اشرف غنی نے عبادت کا سلسلہ جاری رکھا ابھی تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

طالبان کی طرف سے حالیہ عرصے میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافے کے بعد افغان دارالحکومت پر ہونے والا پہلا راکٹ حملہ ہے۔ حملے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
تازہ حملے کے بعد افغان صدر غنی نے کہا کہ طالبان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ قیام امن کے لیے کوئی ارادہ یا نیت نہیں رکھتے ہیں۔
اعلی فوجی اور سیاسی حکام کی موجودگی میں تقریر کرتے ہوئے افغان صدر نے کہا کہ انہوں نے اتمام حجت کے لیے وفد کا دوحہ بھیجا تھا لیکن طالبان امن کی نیت نہیں رکھتے۔ طالبان کے برعکس افغان حکومت امن اور صلح کا ارادہ رکھتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے دنیا کو طالبان کے 5000 قیدی رہا کرتے وقت واضح کر دیا تھا کہ وہ دھوکہ و فریب دے رہے ہیں۔
اپنی تقریر میں افغان صدر کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے انہوں نے ایک نیا منصوبہ تیار کر لیا جس پر کئی ہفتوں تک کام کرنے کے بعد ترجیحات طے کر لی گئیں ہیں۔ یہ جنگ صرف نظام کے تحفظ کی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ ہم سب کی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کی جنگ ہے۔ اشرف غنی کے مطابق اس لڑائی میں افغان حکومت اور سکیورٹی فورسز کو جامع اور قومی مدد کی ضرورت ہے۔

کابل میں راکٹ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اس وسطی ایشیائی ملک سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے عمل کے دوران طالبان اور دیگر انتہا پسند گروہ اپنے حملوں میں تیزی لا چکے ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ درجنوں عالمی وفودنے ایک روز قبل ہی طالبان سے اپیل کی تھی کہ وہ فوری طور پر اپنی پرتشدد کارروائیاں ترک کر دیں تاکہ وہ اپنے ان دعوؤں کو سچ ثابت کر سکیں کہ وہ افغان تنازعے کے اختتام اور افغانستان میں پائیدار امن چاہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں