لاہور ایجوکیشن رپورٹرز ایسوسی ایشن (لیرا) کی تقریب حلف برداری

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) لاہور کالج فار وومین یونیورسٹی میں لاہور ایجوکیشن رپورٹرز ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداروں سے وزیر برائے اعلی تعلیم راجہ یاسر ہمایوں سرفراز حلف لیا۔ اور کہاکہ یونیورسٹیوں کو اگر ٹھیک کرنا ہے تو اسے غیر سیاسی کرنا ہو گا۔ ہم نے اپنے دور حکومت میں یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی بھرتیاں میرٹ پر کیں۔ میں سمجھتا ہو کہ ایچ ای سی کو ہونا ہی نہیں چاہئیے۔
ہم نے اپنے دور حکومت میں یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی بھرتیاں میرٹ پر کیں۔ ہمیشہ سےایجوکیشن رپورٹرز کا اہم رول پے۔ لیرا کےصدر سجاد کاظمی نے کہاکہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ صحافیوں بلخصوص ایجوکیشن رپورٹرز پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کہ اپنی ذمہ داری کو خوب نبھائے اور ہماری ہر خبر کا مقصد اصلاح اور محکمہ کی توجہ کروانا مرکوز کروانا ہوتاہے۔ اسکول و ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹس کے علاوہ تمام شعبوں کو یقین دلواتاہو کہ ان کے اچھے کام کو سہراہے گے۔
ڈاکٹر بشری مرزا نے کہاکہ نےکہاکہ خوش آئن بات ہے ہائیر ایجوکیشن یونیورسٹیوں کےحوالےسےایچ ای سی اقدامات بھی کررہی ہے۔ایچ ای سی قابل احترام اارہ ہے لہذا خبروں کےحوالے سے احتیاط سے کام لیاجائے۔ ڈاکٹر پروفیسر کنول امین نے نئے باڈی کو مبارک باد دی اور کہا کہ خبریت میں ذاتی عنصر نہیں ہونا چاہیے۔ منہاج یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد سرویا نےایجوکیسن رپورٹرز نے کہا کہ ایجوکیشن رپورٹرز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہو۔ سجاد کاظمی کا اس سے قبل والا دور بھی اچھا رہا۔ یونیورسٹی آف انجینرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے وی سی ڈاکٹر منصورسرور نے نئی باڈی کو مبارک باد دی اور ایجوکیشن رپورٹرز کی خدمات کو سہراہا۔
لاہور ایجوکیشن رپورٹرز ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداران نے اپنی صحافتی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کا عزم ظاہر کیا۔
تقریب میں وائس چانسلر لاہور کالج فار وومین یونیورسٹی ڈاکٹر بشری مرزا، وائس چانسلر ہوم اکنامکس یونیورسٹی ڈاکٹر کنول امین، پرو وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی ڈاکٹر شاہد سرویا، یو ای ٹی کے وائس چانسلر پروفیسر منصور سرور کے علاوہ صدر پیپلا ڈاکٹر طارق کلیم، جنرل سیکرٹری پنجاب ٹیچرز یونین رانا لیاقت علی، یو ای ٹی سےڈاکٹر تنویر قاسم، پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صدر کاشف ادیب جاودانی، سرونگ سکول ایسوسی ایشن کے صدر میاں رضا الرحمن سمیت مختلف تعلیمی اداروں اور شعبوں کے سربراہان نے شرکت کی

اپنا تبصرہ بھیجیں