موٹروے زیادتی کیس: مختلف شہروں میں مظاہرے

لاہور میں موٹروے پر خاتون سے زیادتی کے خلاف وفاقی دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں مظاہرہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق چند روز کے قبل لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹروے پر دو ملزمان کی طرف سے خاتون کے ساتھ زیادتی کی گئی جس کے بعد ملک بھر عوام میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے، وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب انعام میمن نے واقعہ کا نوٹس لیا ہے۔

موٹروے زیادتی کیس پر اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں پر دو ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے، دونوں ملزمان کے نام وقار الحسن شاہ اور عابد علی ملہی ہے۔ ان واقعات کے بعد مختلف شہروں میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پشاور، ملتان اور اسلام آباد میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مظاہرین نے پلے کارڈز اُٹھائے ہوئے تھے، جس پر انصاف دو کے نعرے درج تھے، پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر بخاری، سینیٹر روبینہ خالد نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

اسلام آباد میں سول سوسائٹی کا مظاہرہ ہوا، مظاہرے میں سول سوسائٹی کی خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی،مظاہرے میں عوامی ورکرز پارٹی اور وویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کے کارکن نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے، واقعہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، حکومت کیلئے یہ واقعہ ایک کھلا چیلنج ہے۔

دوسری طرف ملتان میں بھی موٹروے پر زیادتی کے واقعہ کے خلاف خواتین اور بچے سڑکوں پر نکل آئے، جماعت اسلامی وومن ونگ نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ریلی نکالی۔

ریلی میں خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد شریک تھی، ریلی میں شریک خواتین نے بینرز پلے کارڈز آٹھا رکھے تھے، ریلی کے شرکا نے ملزمان کو سرے عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں، سی سی پی او کے غیر ذمہ دارانہ بیان کی مذمت کرتے ہیں۔

دریں اثناء کراچی میں سول سوسائٹی نے بھی احتجاج کیا۔ تین تلوار کلفٹن اور پریس کلب پر مظاہرے کیے گئے

تین تلوار پر ہونے والے مظاہرے میں خواتین کی بڑی تعداد شریک تھی ۔۔ مقررین نے سوال کیا کہ کیا بچیاں ماؤں کی گود میں ہی رہیں گی۔ گلیوں اور پارکس میں نہیں کھیلیں گی؟ کیا خواتین کے گھر سے باہر نکلنے کے اوقات مقرر کیے جائیں گے۔ مظاہرین نے کراچی کی پانچ سالہ مروا اور لاہور میں زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب کراچی پریس کلب پر خواتین کے مظاہرے میں سی سی پی او لاہور کے بیان کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ شرکاء نے مطالبہ کیا سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو برطرف کیا جائے ۔

کوئٹہ پریس کلب کے باہر سول سائٹی ،سیاسی جماعتوں،طلباء تنظیموں اور خواتین تنظیموں احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین نے پلے کارڈز اوربینرزاٹھارکھے تھے جن پر خواتین کے تحفظ کے حق میں نعرےدرج اورانہوں نے نعرے بازی بھی کی۔ مظاہرین کاکہناتھاکہ ریاست میں خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا حکومت پر سوالیہ نشان ہے، افسوس کی بات ہے کہ آج ملک میں عورت محفوظ نہیں، گجرپورہ موٹروے پر عورت کو بچوں کے سامنے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا دھرندگی کی مثال ہے، جبکہ تربت میں صحافی شاہینہ شاہین کو اپنے گھر میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، ملک میں خواتین کے عدم تحفظ کی زمہ دار وقت کے حکمران ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں