افغان نائب صدر امراللہ صالح قاتلانہ حملے میں‌ بال بال بچ گئے، 10 افراد ہلاک

کابل میں افغان نائب صدر امراللہ صالح کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس میں وہ بال بال بچ گئے۔ دھماکے کی زد میں آ کر 10 دیگر افراد ہلاک، محافظوں سمیت متعدد زخمی ہو گئے۔ ابھی تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
نائب صدر امرللہ صالح کی میڈیا ٹیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نائب صدر دہشت گرد حملے میں محفوظ رہے، خود کش حملہ آور نے نائب صدر کو اس وقت نشانہ بنانے کی کوشش کی جب وہ کام کے لیے گھر سے نکلے۔

افغان وزارت داخلہ کے مطابق حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ واقعہ کابل کے علاقے تیمانی میں پیش آیا۔ خودکش حملہ اس قدر شدید تھا کہ اردگرد کی دکانیں اور سڑک پر کھڑی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔
واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان اور امریکہ کے مابین امن منصوبے کے بعد دہشتگرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے جو ایسے عناصر کی کارروائی ہو سکتی ہے جو افغانستان میں امن قائم ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ اقوام متحدہ کی 25 جولائی کو سامنے آنے والی رپورٹ میں بھارت کو دہشت گردی کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں