سٹاک مارکیٹ میں مسلسل چھٹے کاروباری سیشنز میں بھی تیزی

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران 100 انڈیکس 151.39 پوائنٹس بڑھ گیا، اس تیزی کے بعد مسلسل چھٹے کاروباری سیشنز کے دوران تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ چھ سیشنز کے دوران مسلسل سٹاک مارکیٹ میں بہتری دیکھنے کو مل رہی ہے، پاکستان کو عالمی اداروں کی طرف سے ملنے والی امداد اور سرمایہ کاروں کو ملنے والی سہولیات کے بعد انویسٹرز سٹاک مارکیٹ میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں۔

رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران حصص مارکیٹ میں ایک مرتبہ پھر تیزی دیکھی گئی، 100 انڈیکس 151.39 پوائنٹس بڑھ گیا۔ جس کے بعد انڈیکس 35202.77 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا۔

پورے کاروباری روز کے دوران انڈیکس میں مزید دو حدیں بحال ہوئیں، بحال ہونے والی حدوں میں 35100 اور 35200 کی حدیں شامل ہیں جبکہ پورے کاروباری روز کے دوران کاروبار میں 0.43 فیصد کی بہتری ریکارڈ کی گئی، اس دوران 22 کروڑ 90 لاکھ 97 ہزار 601 شیئرز کا لین دین ہوا۔ جس کے باعث سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کے پہلے کاروباری ہفتے کے دوران دہشتگردوں نے پاکستان سٹاک مارکیٹ پر حملہ کیا تھا، تاہم یہ حملے بھی سرمایہ کاروں کے حوصلے پست نہ کر سکے، 100 انڈیکس میں 242.31 پوائنٹس کی تیزی دیکھی گئی تھی اور انڈیکس 34181.80 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔

دوسرے کاروباری روز کے دوران کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز نے سٹاک مارکیٹ کا دورہ کیا جس کے باعث سرمایہ کاروں کے حوصلے مزید بلند ہوئے ، دوسرے کاروباری روز بھی انڈیکس میں مارکیٹ 240 پوائنٹس اضافہ سے 34 ہزار 421 پوائنٹس پر بند ہوئی تھی۔

رواں ہفتے کے تیسرے روز کے دوران بھی تیزی ریکارڈ کی گئی تھی، 100 انڈیکس 485.27 پوائنٹس بڑھ گیا تھا جس کے بعد 34907.19 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا تھا۔

چوتھے روز رواں ہفتے کے چوتھے کاروباری روز کے دوران اُتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا تاہم حصص مارکیٹ کا اختتام 88.77 پوائنٹس کی تیزی کے بعد 34978.18 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا۔

پانچویں کاروباری روز کے دوران مارکیٹ میں ایک مرتبہ پھر تیزی ملی، اُتار چڑھاؤ کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر دیکھنے کو ملا جس کے بعد انڈیکس 73.20 پوائنٹس کی تیزی کے بعد 35 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 35051.38 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں