پاکستان میں عید الفطر اتوار کو منائی جائیگی

کراچی: ملک بھر میں یکم شوال کا چاند نظر آ گیا، عید الفطر اتوار کو منائی جائیگی۔
تفصیلات کے مطابق عید الفطر کا چاند دیکھنے کے لیے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس چیئر مین مفتی منیب الرحمن کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں رویت ہلال کمیٹی کے اراکین کےعلاوہ زونل کمیٹی ممبران، محکمہ موسمیات ، نیوی اور سپارکو کے افسران کے ماہرین بھی شریک ہیں۔

مفتی منیب الرحمن کا کہنا تھا کہ اجلاس میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی میں مفتی ابراہیم قادری، مفتی عارف سعید، مولانا عابد عبید اللہ، مولانا محمد ظفر، مولانا حافظ عبدالمالک، علامہ پیر سیّد شاہد علی گیلانی، غلام مرتضیٰ سمیت نیوی کمانڈر منظور احمد نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئر مین رویت ہلال کمیٹی کا کہنا تھا کہ چمن سے حافظ محمد یونس نے بتایا کہ ہمارے ساتھ اعتکاف میں بیٹھے 15 افراد نے چاند دیکھا، پشین سے لوگوں نے بتایا کہ جم غفیر نے چاند دیکھا۔ مختلف مقامات سے ہمیں چاند دیکھنے کی شہادت موصول ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وائرس کے پیش نظر گلے ملنے سے پرہیز کیا جائے اور صرف آواز کی حد تک عید مبارک کہیں۔ فواد چودھری صاحب کی باتیں سنی ہیں، ہم پر کوئی دباؤ نہیں، صرف شریعت پر عمل کرنے کے پابند ہیں، ہمارے لیے دین اہم ہے۔

دوسری طرف بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر بابر کہدہ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پسنی میں میرے علاقے میں30سے زائد لوگوں نے اپنی آنکھوں سے چاند دیکھا، بلوچستان کے علاقے پسنی میں شوال کا چاند نظرآگیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈپٹی کمشنرپسنی کوبھی چاند نظرآنے سے متعلق اطلاع کر دی۔ پسنی میں 30 سے زائد لوگوں نے چاند دیکھا، پسنی میں چاند نظر آنے کی شہادت موصول ہوئی۔

اس سے قبل وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا تھا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے مطابق پاکستان میں عید الفطر اتوار کو ہو گی، چاند کی پیدائش ہوچکی، غروب آفتاب کے بعد سانگھڑ، بدین اور ٹھٹھہ میں دیکھا جا سکے گا۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ مشکلات پر قابو پانا ہی زندگی ہے، انشااللہ مشکل وقت سے نکلیں گے، مذہبی تہواروں کو یکجہتی کی وجہ بننا چاہیئے، رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ہمیشہ سے تنازع کا شکار رہا، ریاست فرقہ واریت سے بالاتر ہوتی ہے، دنیا میں چاند دیکھنا اب کوئی مسئلہ نہیں رہا، آئندہ چند سالوں میں لوگ عید چاند پر بھی کرسکیں گے، سائنس کی ترقی سے چاند دیکھنے کا عمل آسان ہوگیا۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ اسلام ہمیں علم حاصل کرنے کی جستجو کی تعلیم دیتا ہے، چاند کو زمین کے گرد چکر مکمل کرنے میں 29 دن سے کچھ زیادہ لگتا ہے، سورج کی روشنی میں چاند نظر نہیں آتا، سورج غروب ہونے اور چاند نکلنے میں 38 منٹ کا فرق ہونا چاہیے، چاند کی اونچائی 6.5 ڈگری ہونی چاہیے، چاند نظر آنے کا کم سے کم زاویہ 9 ڈگری کا ہونا چاہیے، 22 مئی کی رات 10 بجکر 39 منٹ پر شوال کے چاند کی پیدائش ہوچکی ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ سانگھڑ، بدین، ٹھٹھہ، جیوانی، پسنی میں چاند 7 بجکر 36 منٹ سے 8 بجکر 14 منٹ تک دیکھا جاسکتا ہے، سانگھڑ، بدین، ٹھٹھہ، جیوانی، پسنی میں چاند کی عمر 20 گھنٹے ہوگی، پشاور میں آج بھی چاند نظر آنے کا امکان نہیں، ہم نے تجاویز وزیراعظم آفس کو بھجوا دی ہیں، جو وزیراعظم فیصلہ کریں گے ہم فالو کریں گے، آج غروب آفتاب کے بعد دوربین سے چاند واضح نظر آجائے گا۔

دوسری طرف وفاقی وزیر نور الحق کا کہنا تھا کہ عید کا شرعی فیصلہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرے گی، شہادت کیلئے سائنس اور جدید آلات کی معاونت لی جا سکتی ہے، فواد چودھری دوست ہیں لیکن آج کل وہ چاند چاند کھیل رہے ہیں۔

وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے مطابق عوام اور حکومت عید منائیں گے، شریعت چاند کی رویت اور شہادت پر اعتماد کرتی ہے، عید کا فیصلہ علمائے کرام ہی کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں