پورا ملک لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے، شہری خود کو گھروں تک محدود کریں: وزیراعظم

وفاقی حکومت نے پورا ملک لاک ڈاؤن نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایسا کیا تو غریبوں کا کیا بنے گا۔ لوگوں کو گھروں میں کھانا پہنچانے کے وسائل نہیں ہیں۔ کرونا سے زیادہ خطرہ افراتفری سے ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب میں کہنا تھا کہ اپنے فرائض سےغافل نہیں ہیں، عوام حکومت پر اعتماد کرے۔ عوام کو کسی قسم کی فکر کی ضرورت نہیں، خوراک کی وافر مقدار موجود ہے۔ میں اورمیری پوری ٹیم ہر وقت اس وباء سے مقابلہ کرنے کیلئے حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ذخیرہ اندوزی اور افراتفری پھیلنے سے زیادہ نقصان ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں کہ گھروں میں دیہاڑی والوں کو خوراک پہنچا سکیں؟ اگر پورا لاک ڈاؤن کیا تو ملک کے 25 فیصد غریب لوگوں کا کیا ہوگا؟

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ کھانسی، نزلہ زکام یا بخار کی صورت میں خود کو دوسروں سے علیحدہ کر لیں۔ افراتفری پھیلنے سے ہمارے معاشرے کو زیادہ خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوموں کا مشکل وقت میں پتا چلتا ہے۔ چین نے لاک ڈاؤن کیا کیونکہ وہ دنیا کا دوسرا امیر ترین ملک ہے۔ پورے لاک ڈاؤن کا مطلب ہے لوگوں کو گھروں میں بند کر کے فوج اور سیکیورٹی فورسز سے پہرہ دلوانا۔ ہمیں پورا ملک لاک ڈاؤن کرنے سے پہلے غریب اور روزانہ کی بنیاد پر کمانے والوں کا سوچنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک کو لاک ڈاؤن کرنے کی بحث چلی ہوئی ہے۔ ہمارے ملک کی اتنی استطاعت نہیں کہ ہم پورا ملک لاک ڈاؤن کردیں۔ اٹلی، فرانس اور انگلینڈ جیسے حالات ہوتے تو ملک پورا لاک ڈاؤن کر دیتا۔

دوسری جانب وزیراعظم نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ‘’جو محدود ہے، وہ محفوظ ہے’’ شہری اپنے آپ کو گھروں تک محدود رکھیں۔ عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر عوام کو پیغام دیا کہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ عوام آگے بڑھیں اور ہم وطنوں کو کرونا جیسی آفت سے محفوظ بنانے کی تحریک میں ہاتھ بٹائیں۔

وزیراعظم نے اپنی ٹویٹ میں عوام سے اپیل کی کہ لوگ کسی حکومتی فرمان کا انتظار کئے بغیر ہی خود کو گھروں تک محدود رکھیں اور رضاکارانہ لاک ڈاؤن کی راہ اختیار کریں کیونکہ’’ جو محدود ہے، وہ محفوظ ہے’’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں