پی ایس ایل پروڈکشن کوالٹی میں آئی پی ایل اور بگ بیش کے ہم پلہ:ایلےرانا

بگ بیش اور انڈین پریمیئر لیگ کی پروڈکشن کوالٹی کودنیا بھر میں سراہا جاتا ہے مگر اس سال سنگاپور سے تعلق رکھنے والی سپورٹز ورکز اور پاکستان کی ٹاور سپورٹس کنسورشیم نے پروڈکشن اور براڈ کاسٹنک کے معیار کو دنیا کی ٹاپ لیگز کی پروڈکشن کے ہم پلہ بنا دیا ہے۔پی ایس ایل 2020ء کی پروڈکشن کوالٹی کو پاکستانی اور انٹرنیشنل کرکٹ پرستار دونوں سراہا رہے ہیں۔
ٹاور سپورٹس کے سی ای او ایلے راناکا کہنا ہے کہ پی ایس ایل پروڈکشن ٹیم کے پاس بہترین سازوسامان اور ٹیکنالوجی ہے۔ ہمارے پاس نہ صرف اعلٰی سیٹ اپ ہے بلکہ دنیا بھر میں کرکٹ پروڈکشن کیلئے بہترین سازوسامان بشمول ہاک آئی، سپائیڈر کیم، ڈرونز، اگمینٹڈ رائلٹی اور اعلٰی کوالٹی کے ایچ ڈی کیمرے بھی ہیں جنہیں بڑے گلوبل سپورٹس ایونٹس میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اعلٰی اور تجربہ کار سٹاف کی خدمات 17 مختلف ممالک سے حاصل کی جنہوں نے کرکٹ عالمی کپ سمیت کئی بڑے ایونٹس کی پروڈکشن کر رکھی ہے۔ دعوے سے کہتا ہوں کہ پی ایس ایل کی پروڈکشن کوالٹی انڈین پریمیئر لیگ اور بگ بیش لیگ سے کم نہیں۔انکا مزید کہنا تھا کہ ہمارا مقصد عالمی پائے کی پروڈکشن پاکستان لانا تھا اور اس کے حصول کیلئے کسی بھی قسم کا شارٹ کم استعمال نہیں کیا۔
پی ایس ایل کا موازنہ آئی پی ایل اور بگ بیش لیگ سے کرنا ہماری بڑی کامیابی ہے۔ سی ای او ورلڈز ورکز کرس میکڈونلڈ نے بھی لگ بھگ انہی خیالات کا اظہار کیا۔انکا کہنا تھا کہیہکہنے میں کوئی عار نہیں سمجھتا کہ پی ایس ایل 2020ء کی پروڈکشن کوالٹی بگ بیش لیگ اور آئی پی ایل جیسی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ایس ایل کو کس چیز نے نایاب بنایا۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم پی ایل ایس کی پروڈکشن میں کئی نئے پہلو متعارف پہلی مرتبہ کرائے جن میں اردو کمنٹری، پہلی مرتبہ اردو اور انگریزی کی خاتون پاکستانی کمنٹیٹر تاکہ پی ایس ایل کا دائرہ ملکی خواتین اور لڑکیوں تک بڑھایا جائے،پاکستان کے پوسٹ کارڈز اور سنٹرلائزڈ سٹوڈیو پروڈکشن کا نظام بھی پہلی مرتبہ متعارف کرایا۔
ہمارے کنسورشیم نے پی سی بی کے ساتھ ایک ٹریننگ پروگرام بھی تشکیل دے رکھا ہے جس کے تحت پی ایس ایل 2020ء سے 10 انفرادی لوگوں کو کیمروں، انجینئرز، سرور ٹیکنالوجی، ری پلے، فلور مینجمنٹ اور سٹوڈیو کی ٹریننگ مہیا کر رہے ہیں۔ان تمام باتوں کا مقصد مقامی سپورٹس پروڈکشنز کی کوالٹی اور صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔ آئندہ سال ہماری سپورٹس پروڈکشن ٹیم میں 70 فیصد پاکستانی ہوں گے۔ یہ افراد اوورسیز سپورٹس پروڈکشن کے دوران بھی دستیاب ہوںگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں