جدہ میں کورونا کی مشتبہ مریضہ سڑک کے عین درمیان میں گر پڑی

کورونا وائرس کی ابتداء چین سے ہوئی۔ شروع کے دنوں میں ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئیں جن میں کورونا وائرس کے مریض سڑک پر کھڑے کھڑے اچانک گر جاتے اور پھر ساتھ ہی ان کی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا تھا۔ ان ویڈیوز کے سامنے آنے سے پوری دُنیا میں کورونا وائرس کی دہشت پھیل گئی اور لوگوں کو یقین ہونے لگا کہ کورونا وائرس کا مریض شدید کمزوری کے باعث اچانک سے گر کر چند لمحوں میں ہی موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔
جدہ میں بھی ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس کی وائرل ہونے والی ویڈیو نے سعودی عوام اور تارکین وطن میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ ایک رُوسی اخبارآر ٹی کے عربی ایڈیشن میں بتایا گیا ہے کہ جدہ میں ایک غیر مُلکی خاتون اچانک سڑک کے بیچ میں گر پڑی۔

چند لمحوں تک زمین پر ہی گرے رہنے کے بعد یہ خاتون اُٹھ کھڑی ہوئی اور دوبارہ سے سڑک پر چل پڑی۔ وہاں موجود ایک شخص نے اس واقعے کو اپنے موبائل کے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا اور پھر اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔

ویڈیو بنانے اور اسے پوسٹ کرنے والے شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ سڑک پر گرنے والی خاتون کورونا کی مریضہ ہے، اسی وجہ سے وہ اچانک شدید کمزوری کے باعث گر پڑی تھی۔
اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد ٹویٹر صارفین کی جانب سے تبصرے کیے جا رہے ہیں کہ مملکت میں کوروناسے متاثرہ افراد کی گنتی بہت زیادہ ہے، حکومت کی جانب سے صحیح اعداد و شمار ظاہر نہیں کیے جا رہے۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ خاتون اگر واقعی کورونا کی مریض ہے تو اس کا اس طرح سے آزادانہ جدہ کی سڑکوں پر گھومنا مزید درجنوں افراد کو کرونا وائرس کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ متعلقہ حکام کو فوری طور پر اس خاتون کا پتا چلا کر اس کے ٹیسٹ کروا لینے چاہئیں اور اسے احتیاط کے طور پر قرنطینہ میں ہی رکھنا چاہیے، تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام ہو سکے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز شام تک مزید 38 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جن میں سعودی اور غیر ملکی شامل ہیں۔ نئے مریض سامنے آنے کے بعد مملکت میں کورونا سے متاثرہ افراد کی گنتی 171 تک جا پہنچی ہے۔ سعودی وزارت صحت کے مطابق اب تک کورونا کے 6 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں