اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 0.75 فیصد کمی کردی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 0.75 فیصد کمی کردی ہے، شرح سود 13.25فیصد سے کم ہوکر12.50فیصد ہوگئی ہے، کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ہسپتالوں کو3 فیصد شرح سود پر قرضے دیے جائیں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے اگلے دو ماہ کیلئے شرح سود میں 0.75 فیصد کمی کردی ہے۔
شرح سود 13.25فیصد سے کم ہوکر12.50فیصد ہوگئی ہے۔ کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ہسپتالوں کو3 فیصد شرح سود پر قرضے دیے جائیں گے۔ اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کے باعث پٹرولیم مصنوعات سستی ہوجائیں گی۔ دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے متاثرہ اور معاشی اثرات سے نبرد آزما ممالک کی مدد کے لیے 10 کھرب ڈالر قرضہ دینے کے لیے تیار ہے۔

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیفا نے ایک بیان میں کہا کہ آئی ایم ایف رکن ممالک کے لیے 10 کھرب ڈالر کے قرض دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاع کی پہلی لائن کے طور پر فنڈز تیزرفتاری سے جاری کیے جائیں گے تاکہ بیلس آف پے منٹ سے دوچار ممالک کی مدد کی جا سکے۔ کرسٹالینا جورجیفا نے کہا کہ مذکورہ فنڈ ابھرتی اور ترقی پذیر معیشتوں کو 50 ارب ڈالر تک اور کم آمدنی والے رکن ممالک کے لیے 10 ارب ڈالر صفر شرح سود پر مشتمل ہوگا۔
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ بہت سے معاملات میں یہ انتظامات بحران کا شکار اور مالی اعانت کے حق دار ممالک کو سہارا دے سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً 20 ممالک کی جانب سے دلچسپی کا اظہار کیا گیا آنے والے دنوں میں ان کی ضرورت پوری کردی جائے گی۔آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیفا نے کہا کہ سی سی آر ٹی فنڈز غریب ترین ممالک کو فوری طور پر قرضوں سے نجات دلانے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔
آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا کہ ہم دوسرے ڈونرز کی مدد سے اسے ایک ارب ڈالر تک بڑھائیں گے۔کرسٹالینا جورجیفا کا مزید کہنا تھا کہ اس سے آئی ایم ایف اپنے 189 رکن ممالک کی خدمت کرسکتا ہے اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو ظاہر کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بحران سے صرف اشتراک، کوآرڈینیشن اور تعاون کے ذریعے ہی نکلا جا سکتا ہے اور جو عالمی معیشت کو مستحکم بنائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں