Latest News
Home / International /

نیا بھارتی کالا قانون، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی

<h4 style="direction: rtl; font-family: 'Alvi lahori Nastaleeq ','Jameel Noori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 23px; line-height: 1.5em; text-align: left;">نیا بھارتی کالا قانون، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی

نیا بھارتی کالا قانون، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی

نئی دہلی: (رائل نیوز) بھارت کا خطے کے امن کو تارتار کرنے کا اقدام، صدارتی حکم نامے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی، بھارتی کالے قانون کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر آج سے بھارتی یونین کا علاقہ تصور ہو گا۔

مودی حکومت نے خطے کو ایک مرتبہ پھر آگ میں جھونکنے کا ارادہ کر لیا، صدارتی حکم نامے کے ذریعے نیا کالا قانون لاگو کر دیا گیا ہے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کی جداگانہ خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارتی ریاست کا درجہ دے دیا ہے، کالے قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر آج سے بھارتی یونین کا حصہ تصور ہو گا۔ یہ قدم اسرائیلی طرز پر کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔

قبل ازیں بھارتی پارلیمنٹ میں اجلاس کے دوران اپوزیشن نے مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے امن و امان کی صورتحال داو پر لگانے پر شدید احتجاج کیا، اپوزیشن رہنماوں نے سپیکر کے ڈائس کا گھیراو کر لیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔

بھارتی وزیر داخلہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں آرٹیکل 35 اے، اور 370 منسوخ کرنے کا شوشہ چھوڑا گیا جسے اپوزیشن ارکان نے ماننے سے انکار کر دیا۔ آرٹیکل 35 اے، بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کا حصہ ہے۔ آرٹیکل 370 کی وجہ سے جموں کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ حاصل ہے۔آرٹیکل 35 اے کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں کشمیر کا شہری ہو سکتا ہے اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو۔ کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا اور نہ ہی یہاں کا مستقل شہری بن سکتا ہے نہ ہی ملازمتوں پر حق رکھتا ہے۔ یہی آرٹیکل 35 اے جموں و کشمیر کے لوگوں کو مستقل شہریت کی ضمانت دیتا ہے۔ اسے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ بھارت کشمیر کے خصوصی ریاست کے درجے کو ختم کر رہا ہے۔

آرٹیکل 370 کی وجہ سے صرف تین ہی معاملات بھارت کی مرکزی حکومت کے پاس ہیں جن میں سیکیورٹی، خارجہ امور اور کرنسی شامل ہیں۔ باقی تمام اختیارات جموں و کشمیر حکومت کے پاس ہیں۔بھارت اب عدالتوں کے ذریعے اس آرٹیکل کو ختم کر کے کشمیریت کی پہچان ختم کرنا اور اس متنازعہ علاقے میں غیر کشمیریوں کو لانا چاہتا ہے۔ اس لیے ہم تمام کشمیری بھارت کے اس عمل کی مذمت کرتے ہیں۔

اس آرٹیکل کے خاتمے کے بعد اقوام متحدہ کی جموں کشمیر کے حوالے سے ان قرار دادوں کی رہی سہی اہمیت ختم ہونے کا بھی اندیشہ ہے جن کے مطابق جموں کشمیر کو متنازعہ قرار دیا گیا تھا اور پاکستان اور بھارت کو کہا گیا تھا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلیے رائےشماری کا ماحول بنا کر دیا جائے۔

About editor editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top