Latest News
Home / International / جولین اسانج شدید نفسیاتی تشدد کا شکاربنے ہیں،اقوام متحدہ اہلکار
جولین اسانج شدید نفسیاتی تشدد کا شکاربنے ہیں،اقوام متحدہ اہلکار

جولین اسانج شدید نفسیاتی تشدد کا شکاربنے ہیں،اقوام متحدہ اہلکار

نیویارک:اقوام متحدہ کے خصوصی اہلکار نلس میل زر نے کہا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ کئی سال جارحانہ اور سخت ماحول میں گزارنے سے جولین اسانج کی صحت شدید متاثر ہوئی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انہوں نے اسانج پر کیے گئے مبینہ جبر کی ذمہ داری مشترکہ طور پر امریکا، برطانیہ، سویڈن اور ایکواڈور پر عائد کی ہے۔

میل زر نے خبردار کیا ہے کہ اسانج کی امریکا حوالگی سے ان کے بنیادی انسانی حقوق، آزادی اظہار رائے، ایک آزاد اور شفاف عدالتی کارروائی کا حق اور تشدد سے بچاؤ سمیت متعدد حقوق خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی اہلکار میل زر نے رواں برس نو مئی کو برطانوی دارالحکومت لندن کے ایک قید خانے میں اسانج سے ملاقات کی تھی۔ اسانج ضمانتی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر پچاس ہفتوں کی جیل کاٹ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں واقع ایکواڈور کے سفارت خانے میں میٹروپولیٹن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے وکی لیکس کے شریک بانی جولین اسانج کو گزشتہ ماہ خواتین سے زیادتی سمیت کئی الزامات میں گرفتار کیا تھا۔

Your ads will be inserted here by

Easy Plugin for AdSense.

Please go to the plugin admin page to
Paste your ad code OR
Suppress this ad slot.

برطانوی میڈیا کا کہنا تھا کہ 47 سالہ جولین اسانج پر ضمانت کی شرائط کی خلاف کا الزام ثابت ہونے کے بعد قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اپریل 2017 میں وکی لیکس نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی سیکورٹی ایجنسی نے پاکستان کے موبائل سسٹم کی ہیکنگ کی، ہیکنگ کے لئے مختلف سائبر ویپنز استعمال کئے تھے۔

امریکی ایجنسی این ایس اے کئی عالمی رہنماؤں کی جاسوسی کے لئے وائر ٹیپنگ اور دیگر سائبر ہتھیار استعمال کرتی رہی ہے جبکہ وکی لیکس نے سیکڑوں مختلف نوعیت کے سائبر ہتھیاروں کا بھی انکشاف کیا ہے ، اُن میں پاکستانی موبائل سسٹم کی ہیکنگ کے لئے این ایس اے کی کوڈ پوائنٹنگ بھی شامل ہے ۔

یاد رہے کہ امریکی وزارت انصاف نے وکی لیکس ویب سائٹ کے بانی جولیان اسانج پر اٹھارہ الزامات کی فرد جرم عائد کر رکھی ہے۔ اس میں جاسوسی کے قانون کی خلاف ورزی کرنے کا الزام بھی شامل ہے۔

وزارت انصاف کا ماننا ہے کہ وکی لیکس کا خفیہ دستاویزات کو شائع کرنا اور اسی طرح خفیہ عسکری اور سفارتی ذرائع کے ناموں کا افشاءکرنا جاسوسی کے قانون کے منافی اقدامات ہیں۔

وزارت انصاف کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دستاویزات کو عام کرنے سے امریکی قومی سلامتی کو شدید دھچکا پہنچا تھا۔ جولیان اسانج اس وقت لندن میں ضمانت کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر جیل کاٹ رہے ہیں۔ امریکا نے ان کی حوالگی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

About editortv

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top