Home / Entertainment / Remembering Nusrat Fateh Ali Khan on his 21st death anniversary
Remembering Nusrat Fateh Ali Khan on his 21st death anniversary

Remembering Nusrat Fateh Ali Khan on his 21st death anniversary

قوال، موسیقار اور گلوکار نصرت فتح علی خان کو ہم سے جدا ہوئے اکیس برس ہو گئے لیکن انکی آواز کا سحر آج بھی سننے والے کو مسحور کر دیتا ہے۔ نصرت فتح علی خان تیرہ اکتوبر انیس سو اڑتالیس کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے،
ان کے والد فتح علی خان اور تایا مبارک علی خان اپنے وقت کے مشہور قوال تھے، دس برس کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ قوالی گانا شروع کی اور جب خود سے گانے لگے تو جداگانہ انداز اور آواز نے سننے والوں کے دل موہ لئے۔
نصرت فتح علی خان نے جو گایا امر ہو گیا، روائتی اور جدید موسیقی کے امتزاج سے گائی قوالیاں سن چرخے دی مٹھی مٹھی کوک اور سانسوں کی مالا نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
آفرین آفرین نے فن کو ایک نئی جہت دی، انہوں نے بالی ووڈ اور ہالی ووڈ میں بھی اپنے فن کا لوہا منوایا۔ انگریز موسیقار پیٹر گیبرئل کی دھن پر گائی قوالی دم مست قلندر آج بھی ان کے مداحوں میں مقبول ہے۔ نصرت فتح علی سولہ اگست انیس سو ستانوے کو لندن میں انتقال کر گئے۔
نصرت فتح علی خان نے بھارتی فلموں میں کچے دھاگے ، کارتوس ، اور سابق مس ورلڈ ایشوریہ رائے کی پہلی فلم اور پیار ہوگیا کیلئے بھی موسیقی ترتیب دی۔ اس کے علاوہ انہوں نے فلم اور پیار ہوگیا میں ایک قوالی بھی ریکارڈ کروائی جو فلم میں ان پر ہی فلمائی گئی۔
نصرت فتح علی خان کی کامیابی کا جہاں زمانہ معترف ہے وہیں بہت سے گلوکاروں نے ان کے گائے ہوئے گیتوں کو بغیر اجازت دوبارہ ریکارڈ کروا کے شہرت حاصل کی۔ ان میں سے کئی گیتوں کی دھنوں کو چوری کر کے معمولی ترمیم کے ساتھ بالی ووڈ فلموں کے گیتوں میں شامل کیا گیا، اس ضمن میں بھارتی فلم مہرہ کا گیت تو چیز بڑی ہے مست مست قابل ذکر ہے جو ان کی مشہور قوالی دم مست قلندر مست مست کا چربہ ہے۔ اس کے علاوہ ان کا ایک مشہور گیت کسے دا یار نہ وچھڑے بالی ووڈ کی فلم شریمان عاشق میں ہو بہو چربہ کیا گیا۔
نصرت فتح علی خان نے اپنے کیریئر کے دوران کئی گلوکاروں کو موسیقی کے بنیادی اسرار و رموز سے آگاہ کیا ۔ ان کی شاگردی میں آنے والی گلوکارہ شبنم مجید تھیں جنہوں نے ٹی وی کے علاوہ فلموں میں بھی پلے بیک گلوکاری کی، وہ واحد گلوکارہ تھیں جو نصرت فتح علی کی باقاعدہ گنڈا بند شاگرد تھیں ، اس کے علاوہ کسی اور گلوکار کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا کہ وہ نصرت فتح علی کی شاگردی میں آئے۔
نصرت فتح علی خان کو پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ جاپانیوں کا تو یہاں تک کہنا تھا کہ نصرت فتح کی شکل ان کے ایک دیوتا سے ملتی ہے اور وہ نصرت فتح کو اپنا دیوتا سمجھ کر ان کی عزت کرتے ہیں، یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ نصرت فتح علی کا پروگرام سننے والوں میں جاپانی بھی بڑی تعداد میں شریک ہوتے تھے۔ حالانکہ جاپانی اردو اور پنجابی زبان سے نابلد تھے لیکن ان کا ماننا تھا کہ وہ نصرت فتح کو سنتے ہیں تو انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ اپنے دیوتا کو سن رہے ہیں۔
نصرت فتح علی خان شیرخواری سے ہی موسیقی کی آواز کو پسند کرتے تھے۔ ان کے چچا نے ایک مرتبہ اس حقیقت کا انکشاف کیا تھا کہ جب نصرت فتح علی کے والد گھر میں ریاض کر رہے ہوتے تو اس وقت موسیقی کے سروں کے ساتھ ان کے ہاتھ پائوں تھرکنا شروع کر دیتے اور جیسے ہی موسیقی بند ہوتی ان کے ہاتھ پائوں کی حرکت رک جاتی۔
نصرت فتح علی خان نے اپنے کیرئیر کے دوران پاکستانی فلموں کیلئے بھی موسیقی دی۔ ان کی پاکستانی فلم کا نام پل دو پل تھا جس میں معمر رانا اور ریشم نے مرکزی کردار ادا کئے تھے۔
نصرت فتح علی خان کو دنیا سے گزرے کئی برس بیت گئے مگر وہ اپنے فن کے حوالے سے آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔

About editor editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top