Home / Latest News / چیف جسٹس انفرادی حیثیت میں توہین عدالت کانوٹس نہیں لے سکتے
چیف جسٹس انفرادی حیثیت میں توہین عدالت کانوٹس نہیں لے سکتے

چیف جسٹس انفرادی حیثیت میں توہین عدالت کانوٹس نہیں لے سکتے

سابق وفاقی وزیر طلال چودھری کیخلاف توہین عدالت کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران وکیل کامران مرتضیٰ نے سوال اٹھاتے ہوئے کہاہے کہ عدالتی کارروائی طریقہ کارکے مطابق شروع نہیں ہوئی،چیف جسٹس انفرادی حیثیت میں توہین عدالت کانوٹس نہیں لے سکتے جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ رجسٹرارکے نوٹ پرنوٹس لیاجاتاہے، چیف جسٹس نوٹس لیکرمعاملہ عدالت میں سماعت کیلئے مقررکردیتے ہیں۔

اس پر وکیل نے کہا کہ توہین عدالت کے نوٹس کیلئے انتظامی نہیں جوڈیشل آرڈرہوناچاہئے، آرٹیکل 19 آزادی اظہاررائے کی اجازت دیتا ہے

جسٹس سردار طارق نے کہا کہ آرٹیکل 19 کامطلب یہ نہیں کہ جودل کرے بول دو،آزادی اظہاررائے اورگالیاں دینے میں فرق ہے۔

جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ طلال چودھری نے اپنے الفاظ عدالت میں تسلیم کئے

طلال چودھری کے وکیل نے کہا کہ طاہرالقادری اورعمران خان نے عدالت سے معافی نہیں مانگی

جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ اتنے تحمل کے بعدلوگ بازنہیں آئے توکیاکریں؟۔

وکیل صفائی نے کہا کہ معاف کرنے سے عدالت چھوٹی نہیں ہوجائےگی۔

،

،

About Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top