Home / International / ‘امریکی امداد صرف دوستوں کے پاس جانی چاہیے، دشمنوں کے پاس نہیں’
‘امریکی امداد صرف دوستوں کے پاس جانی چاہیے، دشمنوں کے پاس نہیں’

‘امریکی امداد صرف دوستوں کے پاس جانی چاہیے، دشمنوں کے پاس نہیں’

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہماری پالیسی کے چار ستون ہوں گے، امیگریشن، بارڈر سکیورٹی، گرین کارڈ، پناہ گزنیوں سے متعلق پالیسی میں تبدیلی لائیں گے۔ انہوں نے کہا دہشتگردی کے دور میں ویزا لاٹری جیسے منصوبے نہیں لاسکتے، کھلی سرحدوں کا مطلب ملک میں منشیات اور گینگز کی آمد ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے “اسٹیٹ آف دی یونین “خطاب میں کہا ہم نے اوباما ہیلتھ کیئر ختم کیا، مینو فیکچرنگ کے شعبے میں 2 لاکھ نوکریاں پیدا کیں، 45 سال میں پہلی بار بیروزگاری کی شرح میں کمی آئی۔ انہوں نے کہا امریکی کمپنیز کیلئے ٹیکس 35 سے کم کر کے 21 فیصد کر دیا، بغیر دستاویزات والدین کے ساتھ آنے والوں کو تعلیم کی بنیاد پر شہریت ملے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا آپس کے اختلافات ختم کرنا ہونگے، افغانستان کیلئے مصنوعی ڈیڈلائن نہیں دینگے۔ انہوں نے کہا ہمارے خلاف ووٹ دینے والے ممالک کو 20 ارب ڈالر کی امداد بھیجی گئی، امریکی امداد دشمنوں کی بجائے صرف دوستوں کے پاس جانی جاہیے۔ ان کا کہنا تھا کانگریس سے کہتا ہوں کہ ایران نیو کلیئر ڈیل میں خامیاں دور کرے، ایرانی عوام کرپٹ حکمرانوں کیخلاف کھڑے ہوئے تو میں نے ساتھ دیا، ایران میں آزادی کی کوششوں کی حمایت کرینگے۔

امریکی صدر نے گوانتانا موبے جیل کھلی رکھنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا شام اورعراق میں داعش کے زیرِ قبضہ 100 فیصد علاقہ آزاد کرا لیا، داعش کے خاتمے تک کاررروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا شمالی کوریا سے بڑھنے والے خطرات کو کم کریں گے، بیرون ملک پکڑے مجرموں سے دہشتگردوں کی طرح ہی برتاؤ کرنا چاہیئے۔

About editor editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top