Home / Latest News / امریکا کی نئی مشرق وسطیٰ پالیسی دو ریاستی حل سے انحراف
امریکا کی نئی مشرق وسطیٰ پالیسی دو ریاستی حل سے انحراف

امریکا کی نئی مشرق وسطیٰ پالیسی دو ریاستی حل سے انحراف

امریکی صدر کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کئے جانے کے متوقع اعلان پر عالم اسلام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، دنیا بھر کی مسلم ریاستوںخصوصاً پاکستان، ایران، ترکی، سعودی عرب، اردن اور فرانس سمیت دیگر عالمی برادری نے اس پر شدید تحفظات ظاہر کئے۔ صدر ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ صدر ٹرمپ عالم اسلام کے حوالہ سے اپنا ایجنڈا رکھتے ہیں، اب انکا نیا اعلان جلتی پر تیل کا کام کر گیا، ٹرمپ انتظامیہ کا تازہ اعلان امریکہ کے اندر جاری ایک جنگ سے توجہ ہٹانے اور خود سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور پینٹاگون میں بیٹھے ان عناصر کیلئے سخت پیغام ہے جو اسرائیل فلسطین معاملہ اور اس کے دو ریاستی حل پر یقین رکھتے ہیں۔ اسرائیل چونکہ 1967 اور 1976 کے بعد مشرق وسطیٰ میں لاکھوں یہودیوں کو بسا چکا، اب امریکہ عالمی طاقت کے طور پر اس مقبوضہ علاقہ کو اسرائیلی اتھارٹی تسلیم کریگا تو نہ صرف مقبوضہ بیت المقدس بلکہ پورے فلسطین میں قبضہ کر کے بنائی جانیوالی یہودی بستیوں کو ایک قانونی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہو گا، اگر یہ سب کچھ اس پلاننگ کے تحت ہو گیا تو پھر دیگر عالمی قوتوں کے سفارت خانے مقبوضہ بیت المقدس میں بننا شروع ہو جائیں گے۔مشرق وسطیٰ میں مسئلہ فلسطین کا بھاری پتھر اگر ٹرمپ نے غیر انسانی، غیر جمہوری، غیر منصفانہ انداز میں اٹھانے کی کوشش کی تو اس سے نہ صرف عالمی امن کو خطرہ ہو گا بلکہ بے گناہ اور نہتے فلسطینیوں کی ریاست کے قیام کا امکان بھی ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گا۔ مشرق وسطیٰ میں تبدیلیوں سے جنگی خطرات سے بھرپور وقت میں دنیا بھر کے ماہرین حیرت میں ہیں کہ امریکہ جیسی سپر پاور جو دنیا بھر کے مسائل سفارتی محاذ پر نمٹانے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہ مشرق وسطی میں ایک نیا محاذ کھول کر کس کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے ؟اس طرح کے یکطرفہ اورغیر منصفانہ فیصلوں سے جنگ کے شعلے صرف عراق، شام اور لیبیا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اسکا جواب اردن، لبنان اور مصر کی سر زمین سے بھی دیا جائے گا۔ جہاں تک عالم اسلام کی حکمت عملی کا تعلق ہے تو فوری طور پر او آئی سی کا اجلاس بلا کر اس غیر منصفانہ اعلان اور عمل کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ پر سفارتی دباؤ ڈالنا چاہئے۔

About editor editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top