Home / Latest News / دھرنا سیاست پر اثر ڈالے گا
دھرنا سیاست پر اثر ڈالے گا

دھرنا سیاست پر اثر ڈالے گا

فیض آباد پردھرنا ختم ہو گیا جو ایک اچھی بات ہے، لیکن دھرنے کا ہونا اور پھر جس طرح حکومت نے اس کو ڈیل کیا اس سے کچھ ایسےاثرات نمودار ہوئے ہیں جو آئندہ کی سیاسی صورتحال پر گہرا اثر ڈالیں گے۔ پہلی بات جو ہمارے سامنے آئی کہ حکومت میں بحران سے نمٹنے کی صلاحیت بہت کم ہے ۔یہ معاملہ اگر ابتدائی مرحلے میں ڈیل کرلیا جاتا تو بہت بہتر ہوتا کیونکہ اس میں ایک ایسا سوال تھا جس سے ملک میں جذباتیت عروج پرتھی اور سب کو پتہ تھا کہ یہ معاملہ پھیل سکتاہے لیکن حکومت نے اس کی پروا نہیں کی ۔ان کا غالباًخیال تھا کہ چند مولوی احتجاج کر رہے ہیں لہذا کچھ نہیں ہوگا اور ان کو فیض آباد تک پہنچنے دیا گیا۔اس کے بعد ان کی دوسری بڑی ناکامی دھرنے کو منتشر کرنے کیلئے قوت کا استعمال تھا ،جس کے بار ے میں وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ یہ سارا معاملہ تین گھنٹے میں ختم ہو سکتاہے ۔جب انہوں نے کارروائی کی تو انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی،اس کی وجہ یہ تھی کہ حکومت نے اس پر ردعمل بارے اندازہ نہیں لگایا تھا ۔ اس کے کیا اثرات ہونگے اور ملک کے دیگر حصوں میں ان کو کتنی حمایت حاصل ہو گی،حکومت کو کچھ اندازہ نہیں تھا۔ حکومت کی فیصلہ سازی میں کمی نظر آئی ،آپریشن کے بعد حکومت کے پاس اور کوئی آپشن نہیں تھا۔اس نے فوج کو طلب کرلیا ،جب فوج یا رینجرزکو طلب کیا جاتاہے تو اسے سول حکومت کی ناکامی سمجھا جاتا ہے کیونکہ پولیس کی ڈیوٹی کرنافوج کی بنیادی ذمہ داری نہیں اور یہ اسی صورت میں کیا جاتاہے جب سول حکومت معاملات کو ڈیل نہ کرسکے ۔ حکومت مذاکرات میں کامیاب نہ ہوتی اگر فوج کا نمائندہ اس میں شامل نہ ہوتاکیونکہ فوج کے بغیر مولانا صاحبان حکومت پر اعتماد کرنے پر تیار نہیں تھے۔اس سارے واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ اس واقعے سے حکومت سیاسی طورپر کمزور ہوئی ہے ۔اس پر اعتماد کم ہواہے ۔مسلم لیگ ن کے اندر بھی اسکی وجہ سے بے چینی بڑھی ہے۔ بہت سے ایم این ایز اور ایم پی ایز اس لئے پیچھے ہٹیں گے کہ وہ نہیں چاہتے کہ مذہبی لوگ ان کی مخالفت اس وجہ سے کریں کہ ان کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے ۔اس طرح حکومت مجموعی طور پر کمزور ہوئی ہے ۔ حکومت اعتماد کھو چکی ہے اوررائے عامہ کا ایک طبقہ کھلے عام مخالفت کررہا ہے یہ وہ طبقہ ہے جو مسلم لیگ ن کو ووٹ دیتاتھا،اس صورتحال میں حکومت کو ایک حقیقت پسندانہ جائزہ لینا چاہیے ۔جس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ حکومت انتخابات کا اعلان کرے اور ایک نیا مینڈیٹ حاصل کرے اور اگر انتخابات میں انہیں کامیابی مل جاتی ہے تو پھروہ زیادہ اعتماد کیساتھ اپنی پالیسیز کو چلا سکیں گے لیکن اگر یہ موجودہ طریقے سے ہی چلتے رہے تو میرا نہیں خیال کہ حکومت کے اندر اب صلاحیت ہو گی کہ کوئی نئی پالیسی بامعنی انداز میں آگے بڑھا سکے ،اس طرح حکومت دائرے میں چلے گی اور آگے نہیں بڑھے گی،اس سے مسلم لیگ ن اور ملک کا نقصان ہو گا ۔

About editor editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top