Home / International / ملاوی میں ڈریکولا ہونے کے شبے پر کئی افراد قتل
ملاوی میں ڈریکولا ہونے کے شبے پر کئی افراد قتل

ملاوی میں ڈریکولا ہونے کے شبے پر کئی افراد قتل

ماسکو: جنوب مشرقی افریقہ کے ملک ملاوی میں اس وقت ویمپائر اور ڈریکولا کی افواہیں اور خوف اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ لوگ ہیجان کے شکار ہوکر عام بے گناہ افراد کو ڈریکولا کے شبے میں قتل کررہے ہیں۔جنوب مشرقی افریقی ملاوی کے گلی محلوں میں اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کے گروہ بن گئے ہیں تاکہ وہ کسی مشتبہ شخص سے اپنے پیاروں کو بچاسکیں لیکن اس جنون میں ستمبر سے اب تک 9 افراد ڈریکولا کے الزام میں بے دردی سے قتل کئے جاچکے ہیں۔ملاوی کے دوسرے بڑے شہر بلینٹائر میں اب تک 2 افراد کو پتھروں سے کچل کر اور زندہ جلاکر مارا گیا ہے جب کہ 140 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جن پر خود ساختہ طور پر ڈریکولا کے شکاری کا الزام تھا اور وہ جگہ جگہ خون پینے والے فرضی افراد کو ڈھونڈ رہے تھے۔بعض ذرائع کے مطابق پہلے پڑوسی ملک موزمبیق میں ڈریکولا کی افواہوں نے زور پکڑا جہاں اس سے قبل بھی نام نہاد ڈریکولا کی سچی جھوٹی خبروں پر فسادات ہوئے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق موزمبیق اور ملاوی سرحد کے پاس مولانجے اور فالومبے نامی دو ضلعوں میں ان کہانیوں نے جنم لیا ہے۔یہ نام نہاد ویمپائر شکاریوں نے ڈاکٹروں اور صحت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنانا شروع کیا یعنی وہ ڈاکٹروں کی اسٹیتھوسکوپ کو غلطی سے خون چوسنے کا کوئی آلہ سمجھ کر ان پر حملے کرتے رہے۔ اس کے علاوہ کئی ڈاکٹروں کو لوٹا گیا اور ان کی املاک و گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ یہاں تک کہ ایمبولینس کو بھی نہیں بخشا گیا ۔ ملاوی میں ڈاکٹروں کی تنظیم کے مطابق اب یہ پاگل پن پوری قوم میں کسی جنون کی طرح پھیل چکا ہے۔ملاوی میں ڈاکٹروں کی تنظیم کے صدر آموس سیلمنڈا نیاکا کہتے ہیں کہ ’ پہلے اکا دکا واقعات ہوئے اور اس کے بعد افواہوں کا بازار گرم ہوگیا ۔ یہاں تک کہ ہر شخص ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے لگا اور اب یہ قومی المیہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈریکولا اور خون چوسنے والے انسانوں کا کوئی وجود نہیں یہ محض افواہ اور خیالی باتیں ہیں۔پولیس کے مطابق متاثرہ علاقوں میں گشت بڑھادی گئی ہے جب کہ عام افراد کو ویمپائر قرار دے کر قتل کرنے یا حملہ کرنے والوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا۔دوسری جانب ملاوی کے صدر پیٹر موتھاریکا بھی اس سے صورتحال سے پریشان ہیں اور اسے حکومت کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیا ہے۔  انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق یہ توہمات، فرضی کہانیاں اور معاشرتی عقائد ان پڑھ اور غریب علاقوں میں ذیادہ پائے جاتے ہیں۔ اس سے قبل ملاوی میں سورج مکھی ( البینو) افراد کو بے دردی سے مارا جارہا تھا ان واقعات کے پیچھے خیال تھا کہ ایسے انسانوں کے اعضا اور ہڈیاں جادو ٹونے میں کامیابی کی وجہ بن سکتی ہیں۔واضح رہے کہ ملاوی دنیا کا غریب ترین ملک ہے جہاں توہمات اور جادو ٹونہ عام ہے۔

About editor editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top