Home / International / ڈرائیور نے ساتھ بیٹھی نوجوان لڑکی کے ساتھ کیا کیا؟
ڈرائیور نے ساتھ بیٹھی نوجوان لڑکی کے ساتھ کیا کیا؟

ڈرائیور نے ساتھ بیٹھی نوجوان لڑکی کے ساتھ کیا کیا؟

سڑک پر حادثہ پیش آ جائے تو ہر کوئی مدد کو دوڑتا ہے، چاہے اس کا متاثرین سے کوئی تعلق ہو یا نہ ہو، لیکن امریکی شہر نیویارک میں بے حسی کا ایسا ناقابل یقین واقعہ پیش آیا ہے کہ جس کا تصور کر کے ہی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جائیںمیل آن لائن کے مطابق بروکلین کوئنز ایکسپریس وے پر ایک نوجوان ٹریفک کے درمیاں اپنی گاڑی لہراتے ہوئے انتہائی تیز رفتار پر جا رہا تھا کہ اچانک اس کی گاڑی بے قابو ہر کر ایک بیرئیر سے جا ٹکرائی ۔ شدید ٹکر کے نتیجے میں گاڑی میں آگ لگ گئی، لیکن اس کے بعد جو واقعہ پیش آیا وہ کہیں زیادہ خوفناک ہے۔رپورٹ کے مطابق گاڑی چلانے والے 23 سالہ نوجوان سعید احمد نے آگ بھڑکتے ہی اپنی جان بچا کر باہر چھلانگ لگا دی، لیکن اس کے ساتھ بیٹھی اس کی دوست ہارلین گریویل باہر نکلنے میں ناکام رہی۔ بجائے اس کے کہ وہ اپنی دوست کی مدد کرتا، اس نے وہاں سے گزرتی ایک ٹیکسی کو رکنے کا اشارہ کیا اور اس میں بیٹھ کر ہسپتال روانہ ہو گیا۔ اس دوران بدقسمت لڑکی جلتی ہوئی کار میں جل کر ہلاک ہو گئی۔اس لرزہ خیز واقعے کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے جس میں سعید احمد کو ٹیکسی ڈرائیور سے بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ اس کے عقب میں جلتی ہوئی گاڑی بھی نظر آ رہی ہے۔ جب وہ گاڑی سے نکل کر ٹیکسی کی جانب دوڑا تو غالباً ہر کسی نے یہی سمجھا کہ وہ اس حادثے میں متاثر ہونے والا واحد شخص ہے اور کسی نے بھی جلتی ہوئی گاڑی کے قریب جانے کی کوشش نہیں کی۔ دستیاب معلومات کے مطابق کہ اس نے ٹیکسی ڈرائیور یا کسی بھی اور کو گاڑی میں جلتی ہوئی لڑکی کے متعلق نہیں بتایا اور نہ ہی خود اس کی مدد کی۔ جب ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچے تو گاڑی پوری طرح جل چکی تھی اور اس میں موجود لڑکی کی لاش جل کر کوئلہ ہو چکی تھی۔دوسری جانب سعید احمد کے بھائی نے اس الزام کی تردیدکی ہے کہ وہ لڑکی کو جلتی ہوئی گاڑی میں چھوڑ کر وہاں سے فرار ہو گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کے بھائی نے لڑکی کو بچانے کی کوشش کی تھی لیکن ناکام ہونے پر ٹیکسی لے کر وہاں سے چلا گیا۔ اصل حقائق جلد سامنے آ جائیں گے کیونکہ پولیس نے سعید احمد کو گرفتار کر لیا ہے اور معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ ملزم کو جس وقت گرفتار کیا گیا وہ ایک ہسپتال میں اپنی مرہم پٹی کروا رہا تھا۔

About editor editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top