Home / Latest News / جہانگیر ترین نےزرعی آمدن چھپائی، نااہلی ہوسکتی ہے، عدالت عظمیٰ
جہانگیر ترین نےزرعی آمدن چھپائی، نااہلی ہوسکتی ہے، عدالت عظمیٰ

جہانگیر ترین نےزرعی آمدن چھپائی، نااہلی ہوسکتی ہے، عدالت عظمیٰ

سپریم کورٹ نے نااہلی کیس میں جہانگیر ترین کے وکیل کو اپنی معروضات تحریری طور پر جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے آبرویشن دی ہے کہ الیکشن کمیشن میں کم اور ایف بی آر میں زیادہ آمدن ظاہر کرنے سے یہی تصور ابھرتا ہے کہ کہیں منی لانڈرنگ تو نہیں ہوئی؟ کاغذات نامزدگی کے فرام میں ہر ایک سے اپنی پوری آمدن پوچھی جاتی ہے جو آپ کے موکل کی جانب سے نہیں بتائی گئی بلکہ کاغذات نامزدگی میں زرعی آمدن کو چھپایا گیا۔ عوامی عہدہ کیلئے آمدن کے تمام ذرائع بتانا ضروری ہوتا ہے، مس ڈکلریشن ثابت ہوجائے تو نااہل کیا جاسکتا ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں فل بنچ نے جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر کے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا کہ کم زرعی ٹیکس دینے کی وجہ پنجاب ایگریکلچر انکم ٹیکس ایکٹ میں موجود خامی ہے اور ٹھیکے کی زمین سے حاصل کردہ آمدن کاغذات نزمدگی فارم میں خامیوں کی وجہ سے ظاہر نہیں کی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا اگر ہم نے یہ گنجائش دے دی کہ ہولڈنگ لینڈ سے مراد صرف ملکیتی زمین ہے تو پھر آئندہ سب رعایتیں مانگیں گے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ عوام کی نمائندگی کے امیدوار کیلئے ٹیکس دینا ضروری نہیں بلکہ کاغذات نامزدگی میں آمدنک ے ذرائع ظاہر کرنا لازمی ہے تاکہ وہ بدعنوانی میں ملوث نہ ہوسکے، کاغذات نامزدگی میں ایک خانہ آمدن ظاہر کرنے کیلئے دیاگیا ہے لیکن آپ کے موکل نے الیکشن کمیشن میں 120 ملین اور ایف بی آر میں 650 ملین آمدن ظاہر کی، سماعت کے آغاز پر سکندر بشیر نے پنجاب ایگریکلچر انکم ٹیکس ایکٹ کی مختلف شقیں پڑھتے ہوئے کہا کہ ایکٹ یکسوئی سے مرتب نہیں ہوا، اس لئے ابہام رہ گیا، جسٹس فیصل عرب نے کہا قانون میں کوئی سقم نہیں، آپ نے اخراجات نکال کر مجموعی زرعی آمدن ظاہر کرنا تھی، ٹیکس کا اطلاق بھی مجموعی آمدن پر ہونا تھا، وکیل کا موقف تھا کہ ایک زمین پر دو مرتبہ ٹیکس نہیں دیا جاسکتا، جو اراضی ٹھیکے پر لی گئی اس پر زمین کے مالک نے بھی ٹیکس دیا، اس لئے ٹھیکیدار پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ ٹھیکیدار سے زمین نہیں آمدن پر ٹیکس لیا جاتا ہے۔ سکندر بشیر نے کہا کہ ٹیکس کم دیایا نہیں، یہ معاملہ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، سپریم کورٹ خود سماعت نہ کرے۔ جسٹس بندیال نے کہا ہم ان سوالا ت کو تو دیکھ سکتے ہیں جو ایف بی آر نے ریفرنس میںا ٹھائے۔ سکندر بشیر نے کہا کہ معاملہ ابتدائی مرحلے میں ہے اور سوالات فریم نہیں ہوئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ پر کوئی پابندی ہے نہ ہی ہمارا اختیار سماعت ختم کیا جاسکتا ہے، ہم ریفرنس یہاں بھی منگواسکتے ہیں، وکیل نے کہا سپریم کورٹ کی مداخلت سے ان کا کیس متاثر ہوگا، فیصلہ جو بھی ہوگا آخر میں معاملہ سپریم کورٹ ہی آئے گا۔ آرٹیکل 3/184 کے تحت ان کا ٹیکس آڈٹ نہیں کیا جاسکتا، جسٹس بنیال نے کہا ہمارے سامنے ٹیکس نہیں آمدن چھپانے کا عاملہ ہے، الزام یہ ہے کہ ٹھیکے کی زمین سے جو آمدن حاصل کی گئی وہ چھپائی گئی۔ مس ڈکلریشن ثابت ہوجائے تو نااہل کیا جاسکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا پاناما کیس میں جسٹس آصف کھوسہ نے قرار دیا ہے کہ کسی اور فورم پر کیس زیر سماعت ہونے سے آرٹیکل 3/184 کے تحت سپریم کورٹ کا اختیار سماعت ختم ہوتا۔  چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود نہیں کیا جاسکتا، معاملہ کسی اور جگہ زیر التوا ہے تو بھی عدالت کو غور سے نہیں روکا جاسکتا، انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ایف بی آر نے آپ کو شوکاز نوٹس جاری کیا تو وکیل نے کہا کہ پنجاب ایگریکلچر انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت دو سال کے بعد معاملہ زائد المعیاد ہوکر ختم وہجاتا ہے، ایف بی آر کا نوٹس زائد المعیاد ہے۔ چیف جسٹس نے کہا درخواست گزار کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن میں آپ کا ڈکلریشن غیر قانونی ہے اور ہم نے اس کا جائزہ لینا ہے۔ سکندر بشیر نے کہا کہ ڈکلریشن غیر قانونی ہے یا نہیں، یہ کہنا قبل از وقت ہے، مجاز فورم کو فیصلہ کرنے دیا جائے، اگر فیصلہ میرے خلاف آتا ہے تو پھر یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے لیکن اس وقت مس ڈکلریشن کا کوئی ثبوت نہیں۔ جسٹس بندیال نے کہا ہم نااہلی کا مقدمہ سن رہے ہیں،ا گر مس ڈکلریشن ہے تو پھر نااہلی ہوسکتی ہے۔ آمدن چھپانے کے معاملے کو ٹیکس نہ دینے کے معاملے کے ساتھ یکجا نہ کریں، ٹھیکے پر لی گئی زمین کی آمدن چھپنے کا الزام ہوکیل نے کہا کہ آمدن نہیں چھپائی گئی، کاغذات نامزدگی کے ساتھ انہوں نے ٹیکس ریٹرنز کی دستاویزات بھی منسلک کی اور تمام حقائق ظاہر کئے گئے، جتنا ٹیکس دیا وہ ظاہر کردیا، جتنی آمدن تھی وہ بھی ریکارڈ پر ہے۔ چیف جسٹس نے کہا 18 ہزار ایکڑ لیز کی زمین ظاہر نہیں کی، اگر لینڈ ہولڈنگ کی تعریف کچھ اور ہے تو غلط تشریح پر مجھے نااہل نہیں کیا جاسکتا، اس بنیاد پر کسی نے میرے کاغذات نامزدگی پر اعتراض بھی نہیں اٹھایا، جسٹس بندیال نے کہا الزام منی لانڈنگ کا ہے، وکیل نے کہا معاملہ مجاز فورم پر ہے، اگر الزام ثابت ہوجائے تو نااہل کیا جاسکتا۔ ہے۔ جسٹس بندیال نے کہا الیکشن کمیشن میں کم اور ایف بی آر میں زیادہ آمدن ظاہر کرنے کے معاملے کو تو دیکھ سکتے ہیں، وکیل نے کہا یہ معاملہ اب زائد المعیار ہوچکا ہے۔ اے پی پی کے مطابق عدالت نے استفسار کیا کہ ہمیں بتایا جائے کہ جہانگیر ترین کی جانب سے الیکشن کمیشن ایف بی آر میں جمع کردہ گوشواروں میں فرق کیوں ہے، لینڈ ہولڈنگ کی تعریف ضروری ہے، ہمیں پتہ نہیں چل رہا تو کوئی رکن پارلیمنٹ کس طرح ان باریک بینیوں کو سمجھے گا۔ جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ زمین کا مالک اپنی آمدن اور لیز شدہ زمین پر جبکہ کاشتکار اپنی آمدن پر ٹیکس دے گا، 18 ہزار ایکڑ زمین سے بڑی آمدن ہوتی ہے، عدالت کو بتائیں کیا جہاجہانگیر ترین کی اراضی پر ٹیکس کا حساب لگایا گیا ہے؟ اگر حساب کیا گیا ہے تو تفصیل بتائی جائے، چیف جسٹس نے کہا کہ ٹیکس قانون کی تشریح سے ہمیں کوئی فورم نہیں رکتا، جسٹس بندیال نے کہا کہ عدالت نااہلی کے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے، الیکشن کمیشن میں بظارہ زرعی آمدنی چھپائی گئی، صرف وہ آمدن ظاہر کی جو قابل ٹیکس تھی، دیکھنا یہ ہے کہ لیز شدہ زمین کی آمدن کو ظاہر کیا گیا یا نہیں، ہم نے یہ نہیں دیکھنا کہ جہانگیر ترین نے کتنا ٹیکس دیا، ہم نے اس الزام کو دیکھنا ہے جس کے مطابق کالے دھن کو زرعی آمدن سے سفید کیا گیا، جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں زرعی آمدن کو چھپایا گیا، عوامی عہدہ کیلئے آمدن کے تمام ذرائع بتانا ضروری ہوتا ہے تاکہ کل کو یہ پتہ چل سکے کہ متعلقہ فرد کے پاس کتنے وسائل تھے۔ جسٹس بندیال نے کہا کہ جہانگیر ترین کو اپنی کل آمدن ظاہر کرنا چاہیے تھی۔ عدالت نے لینڈ ہولڈنگ کے معاملے پر فریق مخالف کے وکیل کو بھی معاونت کی ہدایت کیا ور سماعت آج تک ملتوی کردی۔

About editor editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top