Home / Latest News / سیریز میں احمقانہ فیصلے کس نے کیے؟
سیریز میں احمقانہ فیصلے کس نے کیے؟

سیریز میں احمقانہ فیصلے کس نے کیے؟

پلیئرز پر میچ فکسنگ کے الزامات، ٹیم سال میں اپنے 8 میں سے 6 ٹیسٹ ہار چکی تھی، فتوحات بھی بنگلہ دیش اور زمبابوے کیخلاف ملیں، ایسے میں سری لنکاکو تر نوالہ سمجھنا غلط بھی نہ تھا، مگر ہماری یہ روایت ہے کہ آؤٹ آف فارم ٹیم کو پھر سے قدموں پر کھڑا کر دیتے ہیں، اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔تاریخ میں پہلی بار یو اے ای میں ٹیسٹ سیریز گنوانا کوئی معمولی بات نہیں، بورڈ حکام اورٹیم آفیشلز کو اس کا جواب دینا ہوگا، واضح طور پر کئی غلطیاں ہوئیں، افسوس کی بات یہ ہے کہ انھیں درست کرنے کی کوشش بھی نہیں ہوئی، جیسے بچہ بچہ جانتا ہے کہ یو اے ای کی پچز اسپنرز کو مدد کرتی ہیں، اس کے باوجود پہلے ٹیسٹ میں صرف ایک اسپنر یاسر شاہ کو کھلایا، یہ فیصلہ غلط ثابت ہوا تو حیران کن طور پر اگلے میچ میں بھی ایسا ہی کیا گیا۔نوجوان کھلاڑیوں پر اعتماد نہیں تھا تو انھیں منتخب کیوں کیا گیا؟ یہ سلیکشن کمیٹی کو واضح جواب تھا کہ تم جسے چاہو سلیکٹ کرو، کھلانا تو ہمارا کام ہے ناں، بولنگ کوچ اظہرمحمود نے تو پریس کانفرنس میں یہ تک کہہ دیا کہ ہمارے پاس یاسر شاہ کے سوا کوئی معیاری اسپنر نہیں تھا اسی لیے تین پیسرز کھلائے، اس سے اندازہ لگا لیں کہ قومی ٹیم کی باگ ڈور کیسے لوگوں کے پاس ہے۔سلیکٹرز اور مینجمنٹ ایک صفحے پر بھی موجود نہیں، جب آپ نوجوانوں کو موقع نہیں دیں گے تو وہ پرفارم کیسے کریں گے،یقیناً مصباح الحق اور یونس خان کی عدم موجودگی سے فرق پڑا مگر میں یاد دلاتا چلوں کہ اس سیریز سے قبل شارجہ میں جو آخری ٹیسٹ ہوا وہ پاکستان ویسٹ انڈیز جیسی معمولی ٹیم سے ہار گیا تھا۔اس میں بھی بیٹنگ کی ناکامی کا اہم کردار رہا تھا،اب بھی ایسا ہی ہوا،یہ ہمارا دیرینہ مسئلہ ہے،اگر آپ کو 150 رنز بھی درکار ہوں تو52 رنز پر آدھی ٹیم کی رخصتی کے بعد ہدف پانا آسان نہیں ہوتا، بیٹسمین نجانے کس خوف کا شکار تھے، اتنی اہلیت تو تھی نہیں کہ چوتھے اور پانچویں دن روک روک کر میچ ڈرا کرا دیتے پھر بھی نجانے کس وجہ سے کچھوے کی چال اپنائی۔شان مسعود کو میں نہیں سمجھتا کہ اب مزید مواقع ملیں گے، ان کی جگہ احمد شہزاد بہتر انتخاب ثابت ہو سکتے ہیں، سمیع اسلم نے بھی انتہائی سست بیٹنگ سے اپنے لیے ہی مشکلات پیدا کیں، بابر اعظم ون ڈے میں تو صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے مگرٹیسٹ میں ان کیلیے قدم جمانا دشوار لگ رہا ہے، اظہر علی نے بعض اچھی اننگز کھیلیں مگر تسلسل کا فقدان نظر آیا، افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ٹاپ بیٹسمین جدید انداز سے کھیل ہی نہیں رہے،انتہائی سست انداز اپنا کر منفی سوچ کو عیاں کر دیا جاتا ہے۔مصباح الحق سے بیٹسمینوں نے کچھ اور سیکھا یا نہیں مگر سست بیٹنگ ضرور سیکھی ہے، اسد شفیق پوری سیریز میں ناکام رہے مگر آخری باری میں سنچری بنا لی، مگر صاف ظاہر تھا کہ وہ اپنے لیے کھیل رہے ہیں آخری روز سنگلز لے کر ٹیل اینڈرز کو آگے کر دیتے مگر اس کے باوجود وکٹ گنوا بیٹھے، سرفراز احمد کی بیٹنگ بھی بس ٹھیک ہی رہی، بطور کپتان انھوں نے غلطیاں کیں مگر ابھی ایک سیریز ہارنے سے صلاحیتوں کا اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔یہ یاد رکھیں کہ اسی کھلاڑی نے آپ کو چیمپئنز ٹرافی جتوائی ہے، غلطیوں سے سبق سیکھ کروہ بطور ٹیسٹ کپتان بھی کامیاب ثابت ہو سکتے ہیں،ناکامی کا پورا ملبہ ان پر گرانا درست نہیں ہوگا۔ سری لنکا سے ٹیسٹ سیریز میں یاسر شاہ کو پاکستان نے بے تحاشا استعمال کیا، وجہ دوسرے اسپنر کی عدم موجودگی تھی، عامر کی ٹیسٹ کرکٹ سے بے زاری واضح ہونے لگی ہے، فٹنس مسائل کے سبب وہ دبئی میں پریشان رہے لیکن جس طرح کا ماحول بنایا جا رہا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود کو صرف محدود اوورز کی کرکٹ تک محدود کر لیںگے۔محمد عباس نے ڈیڈ وکٹوں پر بہتر بولنگ کی جبکہ وہاب ریاض اس سیل کی طرح ہیں جو کبھی کام کرنے لگتا توکبھی زیرو ہو جاتا ہے، انھوں نے آخری اننگز میں اچھی بولنگ کی مگر مسلسل پانچ بار رن اپ بھی بھول گئے، جسے مخالفین کچھ اور رنگ دینے کی ہی کوشش کرتے رہے، نجانے وہاب کی کارکردگی میں تسلسل کب آئے گا، عامر کی طرح حسن علی بھی فٹنس مسائل میں الجھ گئے، نجانے بورڈ نے کیسے فٹنس ٹیسٹ لیے یا پلیئرز کتنے سپر فٹ تھے کہ جاتے ہی انجرڈ ہو گئے۔چیف سلیکٹر انضمام الحق نے اسکواڈ کا انتخاب بھی درست نہیں کیا،کئی باصلاحیت پلیئرز باہر بیٹھے رہے، جن نوجوانوں کوانھوں نے منتخب کیا مینجمنٹ نے ان سے بس پانی پلوانے کا کام ہی لیا، بدقسمتی سے انضمام کی اپنے کام میں دلچسپی باقی نہیں رہی ہے، دبئی میں وہ ٹی ٹین ایونٹ کی اپنی ٹیم کے معاملات میں مصروف رہے، پھر بھتیجے کو ون ڈے ٹیم میں شامل کرانے کی فکر لاحق رہی، جب میرٹ پر ذاتی پسند ناپسند اور اقربا پروری کو ترجیح دی جائے تو ایسے بدترین نتائج پر زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔بورڈ حکام بھی ٹیسٹ کرکٹ کو کتنا پسند کرتے ہیں اس کا اندازہ میچز کی تعداد سے لگا لیں، شائقین کی عدم دلچسپی کے سبب ڈے نائٹ ٹیسٹ میچز کا تصور سامنے آیا تھا مگر بدقسمتی سے دبئی میں اسٹیڈیم پورا خالی رہا، بورڈ نے اسے بھرنے کی کوئی کوشش بھی نہیں کی،پبلسٹی سے گریز کیا گیا، حکام کو بس پیسہ کمانے میں ہی دلچسپی ہے، اب ون ڈے سیریز میں ٹیم ایک،دو میچز جیتی تو سب ٹیسٹ شکستوں کو بھول جائیں گے حالانکہ ایسا ہونا نہیں چاہیے، ٹیسٹ سیریز میں شکست کا سبب بننے والے احمقانہ فیصلے کس نے کیے؟اس کی انکوائری ضروری ہے، زیادہ کردار تو کوچ مکی آرتھر کا نظر آ رہا ہے جو بعض غلطیوں کا اعتراف بھی کر چکے، ہماری ٹیم13ماہ قبل ٹیسٹ میں نمبر ون تھی اب ساتویں درجے پر پہنچ گئی،ایسا کیوں ہوا؟کیا آرتھر ٹیسٹ میں ناکام کوچ ہیں، تھنک ٹینک کو اس پر ضرور غور کرنا چاہیے تاکہ بہتری لائی جا سکے۔

About editor editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top