Home / Business / مہنگے ٹماٹروں کو نہ روئیں، سستی متبادل اشیا اپنائیں
مہنگے ٹماٹروں کو نہ روئیں، سستی متبادل اشیا اپنائیں

مہنگے ٹماٹروں کو نہ روئیں، سستی متبادل اشیا اپنائیں

کراچی: ٹماٹروہ واحد پھل ہے جس کا استعمال کھانوں میں بطور سبزی کیا جاتا ہے، ٹماٹروں کی وجہ سے کھانے کا ذائقہ اور شکل دونوں بہترہوجاتی ہیں لیکن ان دنوں پاکستان میں ٹماٹروں کا بحران آیا ہوا ہے اور لوگ خواہش کے باوجود ٹماٹرخرید نہیں پارہے۔پاکستان اورمہنگائی کا رشتہ بہت پراناہے، غریب عوام ہمیشہ ہی مہنگائی کی وجہ سے فکرمند رہتے ہیں اورگوشت کے بجائے سبزی استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اب تو نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ بیچارا غریب سبزی بھی نہیں خرید سکتااورکھانوں کا لازمی جز سمجھے جانےوالے ٹماٹروں نے تو حد ہی کردی، ٹماٹر بازارمیں موجود ہی نہیں ہیں اوراگر ہیں تواتنے مہنگے ہیں کہ قیمت سن کر ہی انسان کو پسینے آجائیں۔لیکن قدرت نے ہرچیزکا نعم البدل پیدا کیا ہے، اگر ایک چیزمہیا نہیں ہے تواس کے نعم البدل کے طورپرکسی دوسری چیزکواستعمال کیا جاسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کواس دوسری چیز کے بارے میں علم ہو۔یہاں ٹماٹروں کے متبادل کے طورپراستعمال کی جانے والی چند چیزوں کے متعلق بتایا جارہا ہے جو کھانے میں ٹماٹر کی جگہ استعمال کی جاسکتی ہیں۔دہی ٹماٹر کا بہت اچھا نعم البدل ہے، عموماً ٹماٹر سالن میں گریوی بنانے کے لیے ڈالے جاتے ہیں، لیکن ٹماٹر نہ ہونے کی صورت میں گریوی بنانے کا کام دہی سے بھی لیا جاسکتا ہے بلکہ اکثراوقات دہی ڈالنے سے کھانے کا ذائقہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ٹماٹروں کا ذائقہ ہلکا ساترش ہوتا ہے لہٰذا کھانوں میں کھٹاس پیدا کرنے کے لیے بھی ٹماٹرڈالے جاتے ہیں، کفایت شعارافراد کے لیے کھانے میں ٹماٹر کی جگہ لیموں ڈالنا زیادہ فائدے مند ہے کیونکہ دو ٹماٹروں کی جگہ لیموں کے چند قطرے ہی کافی ہوں گے۔کھانوں میں کھٹاس پیدا کرنے کےلیے لیموں کے علاوہ آم چوریا کھٹائی کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کی تھوڑی سی مقدار سالن میں کھٹاس پیدا کردیتی ہے اور یہ باآسانی ہر جگہ نہایت کم قیمت میں دستیاب ہوتی ہے۔املی کو بھی کھانے میں ٹماٹر کے متبادل کے طورپراستعمال کیا جاسکتا ہے، املی کا قدرتی ذائقہ کھٹا ہوتا ہے لہٰذا اسے باآسانی سالن کو کھٹا کرنے کے لیے ٹماٹر کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے، جب کہ یہ قیمت میں بھی ٹماٹر سے کئی گنا کم ہوتی ہے اور باآسانی ہر جگہ اورہرسیزن میں دستیاب ہوتی ہے۔

About editor editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top