Home / National / پنجاب بجٹ میں ماحولیات اور توانائی کے شعبے نظر انداز
پنجاب بجٹ میں ماحولیات اور توانائی کے شعبے نظر انداز

پنجاب بجٹ میں ماحولیات اور توانائی کے شعبے نظر انداز

حکومت پنجاب نے 2017-18 کے ترقیاتی بجٹ میں ماحول اور توانائی کے شعبوں کویکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ان تحفظات کا اظہار سینٹر فار پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انیشیٹوز کی جانب سے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا گیا۔ ماحولیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران دو اہم مسائل ہیں جو ملکی معاشی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔ جبکہ حکومت پنجاب نے مجموعی طور پر ترقیاتی بجٹ کا صرف 1.3 فیصد ان دو اہم ترین شعبوں کے لیے مختص کیا ہے۔ جس سے عوام کی الیکشن کے سال میں بجٹ سے وابستہ توقعات کو شدید دھچکا لگا ہے۔
پاکستان ماحولیاتی تبدیلی ایکٹ 2017 کی منظوری کے بعد یہ سمجھا جا رہا تھا کہ صوبائی حکومتیں نئے آنے والے بجٹ میں ماحولیاتی تبدیلی کو مناسب اہمیت دیں گی۔ سی پی ڈی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عامر اعجاز نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں ماحولیاتی منصوبہ سازی کا حصہ 2013-14 سے لے کر اب تک 1 فیصد سے بھی کم رہا ہے جو کہ مسلسل ابتری کی طرف جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے اب تک سب سے زیادہ مختص کیے جانے والا حصہ 2013-14 میں 0.057 فیصد تھا جو کہ اسی مالی سال میں کم کر کے 0.023 فیصد کر دیا گیا تھا۔ 2016-17 کے نظر ثانی شدہ ترقیاتی بجٹ میں ماحولیاتی تبدیلی کا حصہ 0.03فیصد رہا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی پنجاب حکومت کی ترجیحات کا حصہ نہیں ہے۔ اس شعبہ میں سال 2017-18 کیلئے مجموعی ترقیاتی بجٹ کا 0.08 فیصد یعنی 540 ملین روپے رکھے گئے ہیں جسے یقینی طور پر کئی گنا بڑھانے کی ضرورت ہے۔
توانائی کے شدید بحران اور حکومت وقت کے بارہا وعدوں کے باوجود 2017-18 کے بجٹ میں اس شعبے کے لیے مختص کی گئی رقم ایک الگ داستان بیان کرتی ہے۔ 7750 ملین روپے توانائی کے شعبے کی ترقی کیلئے مختص کیے گئے ہیں جو کہ کل ترقیاتی بجٹ کا 1.22 فیصد ہے۔ پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں توانائی کے شعبے کا حصہ 2013-14 میں 7.05 فیصد سے کم ہو کر 2016-17 میں 1.64 فیصد رہ گیا۔ 2014-15 کے نظرثانی شدہ بجٹ میں توانائی کے شعبے کا حصہ 3.82 فیصد میں رہا۔ بدقسمتی سے یہ حکومت وقت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں گزشتہ چار سال کے دوران مختص کی جانے والی رقم کی انتہائی حد ہے۔ صوبائی اسمبلی میں کل پیش کیے جانے والے بجٹ میں 2016-17 کے اختتام پر توانائی کے شعبہ میں نظرثانی شدہ اخراجات کا تخمینہ 3366.97 ملین روپے ہے جو کہ کل نظر ثانی شدہ ترقیاتی بجٹ کا 0.63 فیصد ہے۔ عامر اعجاز نے زور دیا کہ توانائی کے شعبے میں مختص کی گئی رقم کو بڑھایا جائے۔
مزید برآں صحت اور تعلیم کے شعبوں سے متعلق حقائق بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنے ابتدائی سالوں میں ان شعبوں کے لیے مناسب بجٹ مختص کیے لیکن گزشتہ چند سالوں میں ان میں کمی کا رجحان پایا گیا ہے۔ گزشتہ چارسالوں میں صحت کے شعبہ کیلئے سب سے زیادہ حصہ 2014-15 کے ترقیاتی بجٹ میں 9.43 فیصد مختص کیا گیا جسے اگلے مالی سال میں کم کر کے 7.78 فیصد کر دیا گیا۔ 2016-17 میں یہ حصہ مزید کم ہو کر 6.42 فیصد رہ گیا جس کا نظرثانی شدہ تخمینہ کل پیش کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق حیران کن طور پر گزشتہ سالوں کی بلند ترین سطح پر یعنی نظر ثانی شدہ کل ترقیاتی بجٹ کا 11.01 فیصد ہے ۔صحت کے شعبہ کیلئے مالی سال 2017-18 میں مختص ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 35093.7 ملین روپے ہے جوکہ کل ترقیاتی بجٹ کا 5.53 فیصد ہے۔
گزشتہ چار سالوں میں تعلیم کے شعبے کیلئے ترقیاتی بجٹ میں مختص کی گئی رقوم مالی سالوں کے آغاز میں 11.81 فیصد اور 12.22فیصد کے درمیان رہیں لیکن سال کے آخر میں پیش کئے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق 2013-14 کا نظر ثانی شدہ تخمینہ کل ترقیاتی بجٹ کا 14.07 فیصد تھا جو کہ 2015-16 میں کم ہو کر 5.35 فیصد رہ گیا ۔ مزید برآں 2016-17 میں تعلیمی بجٹ کا نظر ثانی شدہ تخمینہ کل ترقیاتی اخراجات کا 8.47 فیصد ہے۔ گورنمنٹ نے نئے مالی سال میں 71394ملین روپے مختص کرنے کا اعادہ کیا ہے جو کہ کل ترقیاتی بجٹ کا 11.24فیصد بنتا ہے۔
عامر اعجاز نے حکومت کو ان کے الیکشن مہم کے دوران تعلیم پر GDP کا 4 فیصد مختص کرنے ، لوگوں کو صحت کی بہترین سہولتیں ان کے دروازے پر مہیا کرنے اور توانائی کے بحران کے خاتمے کے وعدے یاد لاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان شعبوں میں ضرورت مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ مختص کیا جائے۔ عامر اعجاز نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو عوام اور بین الاقوامی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق کیے جانے والے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے بجٹ کی منظوری کے مرحلے پر انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس شعبہ میں حقیقت پسندانہ رقم مختص کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید برآں بیان میں وسائل کے بہتر انتظام کے ذریعے بجٹ تخمینہ اور سال کے اختتام پر نظرثانی شدہ تخمینہ کے درمیان فرق کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

About editor news

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top